رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار: ریاست راکھین میں پولیس فائرنگ سے 7 افراد ہلاک


ایک سیکیورٹی اہل کار تونگ بازار گاؤں کے پل پر پہرہ دے رہا ہے۔ جولائی 2017

میانمار کی شورش زدہ ریاست راکھین میں اس وقت کم از کم 7 افراد ہلاک ہو گئے جب پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 4 ہزار افراد نے قصبے مروک میں منگل کی شام دو صدیوں سے زیادہ عرصہ پہلے کی بادشاہت اراکان کی سالگرہ کی تقریب کے بعد ایک سرکاری عمارت کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

علاقائی گورنر میونگ سو نے کہا ہے کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں چلائیں لیکن لوگوں نے نہ صرف منتشر ہونے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے سپائیوں پر بھی پتھروں اور اینٹوں سے حملہ شروع کر دیے جس کے بعد سیکیورٹی اہل کاروں نے ان پر قابو پانے کے لیے اصلی گولیاں استعمال کیں۔

فائرنگ میں 7 افراد کی ہلاکت کے علاوہ 13 لوگ زخمی بھی ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے روہنگیا نہیں بلکہ بودھ تھے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سیکیورٹی فورس کے ہاتھوں غیر مسلح افراد کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا اور پیسیفک کے لیے ایمنسٹی کے ڈائریکٹر جیمز گومز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہلاکتوں کا یہ دکھ بھرا واقعہ میانمار کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی زندگیوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور مثال ہے۔ اگر مظاہرین پتھراؤ کر بھی رہے تھے تو بھی یہ چیز ہزاروں کے مجمع پر براہ راست گولیاں چلانے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ یہ انسانی زندگیوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کا ایک واضح واقعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میانمار کی پولیس کو ہجوم پر قابو پانے کے لیے نہ صرف انہیں بہتر تربیت دینے کی ضرورت ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں ایسے موقعوں پر اہل کاروں کو ہلاکت خیز ہتھیاروں سے مسلح نہ کیا جائے۔

راکھین کی ریاست میں اس وقت انسانی حقوق کے دنیا کے سب سے بڑے بحران سے گذ ر رہی ہے۔ پچھلے سال اگست سے اب تک تقریباً ساڑھے چھ لاکھ روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کا بدترین واقعہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG