رسائی کے لنکس

logo-print

اگست میں شروع ہونے والی کارروائی میں تقریباً 7000 روہنگا ہلاک ہوئے: رپورٹ


کاکسز بازار

’ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ روہنگا باغیوں کے خلاف ظالمانہ فوجی کارروائی کے پہلے ماہ کے دوران، کم از کم 6700 روہنگا مسلمان ہلاک ہوئے۔

جینوا میں قائم بین الاقوامی امدادی گروپ، جسے فرانسیسی مخفف میں ’ایم ایس ایف‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، جمعرات کے روز کہا ہے کہ اُس نے یہ اندازہ بنگلہ دیش کے متعدد روہنگا مہاجر خیموں کا جائزہ لینے اور اعداد و شمار جمع کرنے کے بعد لگایا ہے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس کے اندازوں کے مطابق، ہلاکتوں کے اِن اعداد میں 730 بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں پانچ برس سے کم ہیں۔

میانمار کی فوج پر الزام ہے کہ میانمار کی پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد، فوج نے اگست میں شمال مغربی ریاستِ رخائن میں واقع دیہات میں روہنگا کے خلاف سخت ہتھکنڈوں پر مبنی مہم جاری رکھی۔

اس کارروائی کے نتیجے میں 600000 روہنگا لوگ ہمسایہ بنگلہ دیش کی جانب بھاگ نکلے، جنھوں نے سرکاری فوجوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کے گروہوں کے خلاف سنگین مظالم برتے، جن میں اندھادھند گولیاں چلانا، عصمت دری اور گھروں کو جلانا اور گاؤں کے گاؤں کو نذر آتش کرنا شامل ہے۔

’ایم ایس ایف‘ کے طبی سربراہ، سڈنی وونگ نے بتایا ہے کہ گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ’’لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ زیادتیاں بڑھتی رہی ہیں، جنھوں نے تشدد کی کارروائیوں میں اپنے اہل خانہ کی ہلاکت کی خبریں درج کرائی ہیں، اور اذیت ناک طریقوں سے پردہ اٹھایا ہے، جس طرح سے، اُنھوں نے بتایا، کہ اُن کے متعدد پیاروں کو ہلاک یا زخمی کیا گیا۔‘‘

اقوام متحدہ نے میانمار کی افواج کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو ’’نسل کشی پر مبنی نصابی تشریح‘‘ پر مبنی ہیں۔

میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران پہلے ماہ 400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر دہشت گرد شامل ہیں۔

روہنگا اقلیت کو میانمار کی بودھ مت والے اکثریتی ملک میں شہریت اور دیگر حقوق حاصل نہیں، جو اُنھیں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے تارکین وطن سمجھتے ہیں، حالانکہ اُن کے اہل خانہ کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG