رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں کرونا سے اموات اور طریقۂ علاج پر بیان، بابا رام دیو اور ڈاکٹروں میں نیا تنازع


فائل فوٹو

بھارت کے ڈاکٹروں اور یوگا گرو بابا رام دیو کے درمیان علاج کے طریقۂ کار پر تنازع ہو گیا ہے۔ بابا رام دیو کے بعض بیانات کی وجہ سے ڈاکٹروں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ان کے خلاف ملک سے غداری کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب بابا رام دیو نے کہا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں ہے جو ان کو گرفتار کر سکے۔

کاروباری شخصیت اور یوگا گرو سے ڈاکٹروں کا یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بابا رام دیو نے گزشتہ ہفتے اپنے معتقدین سے گفتگو میں ایلوپیتھی طریقۂ علاج کا مذاق اڑایا تھا اور کہا تھا کہ ایلوپیتھی بیوقوفی والی اور دیوالیہ سائنس ہے۔

ان کے بقول کرونا کے علاج میں پہلے کلوروکوئن ناکام ہوئی۔ پھر ریمڈی سیور ناکام ہوئی۔ پھر اینٹی بائیو ٹیک اور اسٹیرائیڈ ناکام ہوئیں اور اب پلازمہ تھراپی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 10 ہزار ڈاکٹر ویکسین لینے کے باوجود ہلاک ہو چکے ہیں۔ دواؤں اور آکسیجن کی قلت سے اتنے لوگ نہیں مرے ہیں جتنے کہ ایلوپیتھی طریقۂ علاج سے مرے ہیں۔

بھارت میں ڈاکٹروں کی تنظیم ’انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن‘ (آئی ایم اے) نے وزیرِ اعظم کے نام اپنے مکتوب میں کہا کہ بابا رام دیو نے 10 ہزار ڈاکٹروں کی موت کی بات کی ہے۔ ان کا یہ بیان کرونا وبا پر قابو پانے کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔

مکتوب کے مطابق آئی ایم اے کے خیال میں یہ ملک سے غداری کا واضح کیس ہے۔ اس کے علاوہ یہ قومی مفادات اور ملک کے غریب عوام کو نقصان پہنچانے والا معاملہ ہے۔

آئی ایم اے نے واضح کیا کہ وبا کی پہلی لہر کے دوران، جب کہ ویکسین تیار نہیں ہوئی تھی، 753 ڈاکٹر ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری لہر کے دوران 513 ڈاکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔ پہلی لہر کے دوران کسی بھی ڈاکٹر نے ویکسین نہیں لی تھی اور دوسری لہر کے دوران ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں کی اکثریت مختلف وجوہات سے ویکسین نہیں لے سکی تھی۔

آئی ایم اے کی ریاست اترا کھنڈ شاخ نے بابا رام دیو کو ہتک عزت کا نوٹس بھی بھیج دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ 15 دن کے اندر معافی نہیں مانگتے تو ان سے 10 ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نئی دہلی کے ڈاکٹروں کی تنظیم نے بھی بابا رام دیو کے بیان کی مذمت کی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر ایک نئی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں بابا رام دیو یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی میں جرات اور ہمت نہیں ہے جو انہیں گرفتار کر سکے۔ وہ صرف ہنگامہ کر رہے ہیں۔ وہ جو چاہتے ہیں انہیں کرنے دو۔

حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنماؤں نے اس ویڈیو پر وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ سے سوشل میڈیا پر سوال کیا ہے کہ کیا رام دیو کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔

قبل ازیں مرکزی وزیرِ صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بابا رام دیو کے بیان کے بعد ان کے نام دو صفحے کا ایک مکتوب ارسال کیا تھا اور ان سے اپنا بیان واپس لینے کا کہا تھا۔

ان کے مطابق اس بیان سے ڈاکٹروں اور ملک بھر کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور پوری دنیا میں بدنامی ہو رہی ہے۔ لہٰذا وہ خط لکھ کر اپنا قابل اعتراض بیان واپس لیں۔

اس کے بعد بابا رام دیو کی کمپنی ’پتنجلی‘ کے لیٹر ہیڈ پر ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ وہ جدید طریقۂ علاج اور ایلوپیتھی کے مخالف نہیں ہیں۔ وہ مانتے ہیں زندگی بچانے اور سرجری کے شعبے میں ایلوپیتھی نے بہت ترقی کی ہے۔ ان کا جو بیان پیش کیا گیا ہے وہ کارکنوں کے ایک اجلاس میں پڑھا گیا میسج ہے۔ جو واٹس ایپ پر آیا تھا۔ اگر اس سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو انہیں افسوس ہے۔

لیکن اس کے اگلے روز ہی بابا رام دیو نے آئی ایم اے کے نام ایک خط میں 25 سوالات پوچھے اور یہ جاننا چاہا کہ کیا ایلوپیتھی ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں سے مستقل شفا دیتی ہے۔

انہوں نے اس خط میں کئی امراض کے نام لکھے اور پوچھا کہ کیا ایلوپیتھی میں ان کا شافی علاج موجود ہے۔

بابا رام دیو اور تنازعات

مبصرین کے مطابق بابا رام دیو اور تنازعات کا پرانا رشتہ ہے۔ چوں کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کئی رہنماؤں اور کئی مرکزی وزرا کو وہ اپنا دوست بتاتے ہیں اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ان کی قربت ہے۔ اس لیے وہ جیسا چاہتے ہیں ویسا بیان دیتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

گزشتہ سال جون میں کرونا کی پہلی لہر کے دوران ان کی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’کورونل‘ نام کی ایک دوا تیار کی ہے جو سات دن کے اندر کرونا کے مریض کو ٹھیک کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے نیوز کانفرنس کی تھی اور اس میں اپنی اس دوا کو متعارف کرایا تھا۔

لیکن آیوروید، یوگا، نیچورو پیتھی، یونانی، سدّھا اور ہومیو پیتھی کی وزارت، آیوش، نے پتنجلی کو کورونل دوا فروخت کرنے پر اس وقت تک پابندی عائد کر دی تھی جب تک کہ ادویات کی ایجنسیوں کی جانب سے اس کی منظوری نہ ہو جائے۔

رواں سال فروری میں بابا رام دیو نے دو مرکزی وزرا ڈاکٹر ہرش وردھن اور نتن گٹکری کی موجودگی میں دعویٰ کیا تھا کہ کورونل کو صحت کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ایچ او‘ سے سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔

ایک ماہ کے بعد آئی ایم اے نے ایک بیان میں کہا کہ سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) نے کرونا کے مریضوں کو کورونل کا استعمال کرانے کی اجازت نہیں دی۔

صحت کے عالمی ادارے نے بھی ایک بیان میں کہا کہ اس نے پتنجلی کی دوا کا نہ تو جائزہ لیا ہے اور نہ ہی اس کی کارکردگی کے سلسلے میں کوئی سرٹیفکیٹ دیا ہے۔

اس کے باوجود پتنجلی کی جانب سے قوت مدافعت بڑھانے کے لیے پورے ملک میں یہ دوا فروخت کی جا رہی ہے۔

تین روز قبل پیر کو ہریانہ کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ایک لاکھ ’کورونل کٹ‘ کرونا کے مریضوں میں مفت تقسیم کرے گی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بابا رام دیو عوام کے درمیان خوف اور مایوسی کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنی ’نام نہاد اور غیر منظور شدہ دوا‘ فروخت کرکے عوام کی صحت کی قیمت پر پیسہ کما سکیں۔

ان کے مطابق بابا رام دیو تنازعات سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس تنازعے کی آڑ میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرکے اپنا کاروبار بڑھانا چاہتے ہیں۔

بابا رام دیو کے ساتھی آچاریہ بال کرشن نے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ آئی ایم اے کے تحت ایلوپیتھک علاج کرنے والوں کی طرف سے یوگا گرو بابا رام دیو اور آیوروید طریقۂ علاج کو ایک سازش کے تحت ہدف بنایا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG