رسائی کے لنکس

رمیز راجا کا چین کو کرکٹ میں لانے کی کوششوں کا اعلان، کیا چین اس کھیل کی طرف راغب ہو گا؟


چینی خواتین کرکٹ ٹیم نے 2010 کی ایشین گیمز میں سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجا نے کہا ہے کہ پاکستان چین کو بھی کرکٹ میں لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے جس کے بعد کرکٹ حلقوں میں بحث جاری ہے کہ آیا دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین کو کرکٹ کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے؟

رمیز راجا نے بدھ کو پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کی ایک بریفنگ کے دوران نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے دورۂ پاکستان کی منسوخی پر بریفنگ دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر انحصار کم کرنا ہو گا اور کرکٹ میں مزید پیسہ لانا ہو گا تاکہ بین الاقوامی ٹیمیں آئندہ پاکستان کو نظر انداز نہ کریں۔

رمیز راجا کی بریفنگ کے دوران سینیٹ کمیٹی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چین کو کرکٹ میں لانے کی کوششیں تیز کر دیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب چین کو کرکٹ کی جانب راغب کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

سن 2006 میں اُس وقت کے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے سابق پاکستانی فاسٹ بالر راشد خان کو چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بیجنگ بھیجا تھا۔

راشد خان نے پاکستان کے لیے چار ٹیسٹ اور 29 ایک روزہ میچز کھیل رکھے ہیں اور وہ 1983 کے ورلڈ کپ میں بھی قومی اسکواڈ میں شامل تھے۔

کیا چین کو کرکٹ میں لایا جا سکتا ہے؟

راشد خان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے کوچ تھے جنہیں پاکستان نے حکومتی سطح پر چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بھیجا تھا۔

اُن کے بقول اُنہوں نے 11 برس تک چین میں انڈر 15 سے لے کر مرد اور خواتین کی سینئر ٹیموں کے ساتھ بطور کوچ کام کیا اور وہ آئندہ برس ایشین گیمز کی تیاریوں کے لیے چین جائیں گے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے نچلی سطح پر کافی کام ہو رہا ہے لیکن اب بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔

راشد کہتے ہیں کہ جب وہ چین گئے تو اس وقت بیجنگ سمیت کچھ شہروں میں بچے اسکولوں میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ لیکن اس کے بعد کرکٹ پر کافی کام ہوا اور اُن کی کوچنگ میں چین کی خواتین کرکٹ ٹیم نے 2010 کے ایشین گیمز میں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا جہاں اسے پاکستان سے شکست ہوئی تھی۔

راشد خان کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2006 میں کوچنگ کے لیے چین بھیجا تھا۔
راشد خان کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2006 میں کوچنگ کے لیے چین بھیجا تھا۔

راشد خان کے مطابق چین کی حکومت اور کھیلوں کی دیگر تنظیموں کی زیادہ توجہ اولمپک گیمز میں کھیلی جانے والی گیمز پر ہی ہوتی تھی۔ لیکن 2010 کے بعد اب بتدریج بہتری آ رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں اسکول لیول پر 50 ٹیمیں قائم ہو چکی ہیں۔

اُن کے بقول 2014 کے ایشین گیمز میں بھی چین کی مرد اور خواتین کی کرکٹ ٹیموں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

کیا چین کے عوام کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں؟

راشد خان کا کہنا ہے کہ جب وہ چین گئے تھے تو وہاں کے مقامی افراد کو کرکٹ کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی اور وہ اسے بیس بال سے ملتا جلتا کھیل سمجھتے تھے، لیکن اب بتدریج اُن میں اس کھیل سے متعلق آگاہی بھی بڑھ رہی ہے۔

اُن کے بقول چین میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کرکٹ کو ایک پروفیشنل کھیل کے طور پر نہیں لیتے اور اسی وجہ سے حکومتی سطح پر کرکٹ کھیلنے والوں کو زیادہ فوائد نہیں ملتے جو اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے والوں کو ملتے ہیں۔

'رمیز راجہ کرکٹ میں پیسہ لانا چاہتے ہیں'

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کی جانب سے چین کو کرکٹ میں لانے کے بیان پر راشد خان کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں رمیز راجا چاہتے ہیں کہ جس طرح چینی کمپنیاں بھارتی کرکٹ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اسی طرح وہ پاکستان کرکٹ میں بھی پیسہ لگائیں۔

اُن کے بقول چین کی مختلف موبائل فون کمپنیاں بھارتی کرکٹ بورڈ اور انڈین پریمیئر لیگ کو اسپانسر کر رہی ہیں۔

'چین میں بھی زیادہ تر ایشین نژاد کرکٹ کھیل رہے ہیں'

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ 'کرک انفو' کے پاکستان میں نمائندے عمر فاروق کہتے ہیں کہ چین میں کرکٹ زیادہ نہیں کھیلی جاتی اور یہی وجہ ہے کہ وہاں اس کھیل پر زیادہ پیسہ نہیں لگایا جاتا۔

اُن کے بقول رمیز راجا کی یہ کوشش ہے کہ کسی نے کسی طریقے سے کرکٹ میں پیسہ آئے تاکہ پاکستان، بھارت کی طرح دنیا کے دیگر ممالک کے لیے پرکشش ملک بن جائے۔

عمر فاروق کہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے بھی پی ایس ایل کے تیسرے سیزن کے دوران چینی کرکٹرز کو پاکستان بلایا تھا۔

اُن کے بقول ان کھلاڑیوں کو پی سی بی کے خصوصی اجازت ناموں کے ساتھ میچز کے دوران ٹیم ڈگ آؤٹ میں بٹھایا گیا تاکہ وہ اس کھیل سے ہم آہنگ ہو سکیں اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ گھل مل کر اس کھیل کے حوالے سے مزید معلومات لے سکیں۔

اُن کے بقول چین میں جو کھلاڑی اس وقت کرکٹ کھیل بھی رہے ہیں، اُن میں زیادہ تر پاکستانی یا دیگر ایشین نژاد کھلاڑی ہیں۔

اُن کے بقول اگر کرکٹ کو اولمپک میں شامل کر لیا جائے تو شاید چین کی اس کھیل میں دلچسپی بڑھے، لیکن اس کے لیے چین کے عوام کی بھی اس کھیل میں دلچسپی درکار ہو گی۔

خیال رہے کہ سن 2004 میں چین کو ایشین کرکٹ کونسل کی رُکنیت دی گئی تھی جب کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے چینی کرکٹ ایسوسی ایشن کو بطور ایفیلیٹ ممبر رُکنیت دی تھی جس کے بعد چین میں کرکٹ کے فروغ کی کوششیں تیز ہوئیں۔

سن 2017 میں چین کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں بطور ایسوسی ایٹ ممبر جگہ دی گئی۔

ایشین کرکٹ کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت چین میں مختلف لیولز پر کرکٹ کی 52 ٹیمیں ہیں جب کہ ملک میں آٹھ کرکٹ گراؤنڈ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG