رسائی کے لنکس

logo-print

رینجرز اختیارات سے متعلق آئینی حق تسلیم کیا جائے: قائم علی شاہ


قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ رینجرز کو جو اختیارات دیے گئے ہیں ان میں انسداد دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے اور ان کے بقول ان چار چیزوں سے "کسی حد تک ہٹنے کی کوشش کی گئی۔"

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ رینجرز کو اختیارات دینے اور ان کی صوبے میں موجودگی سے متعلق صوبائی حکومت کا نقطہ نظر آئینی ہے اور اس آئینی اختیار کو تسلیم کیا جانا چاہیئے۔

یہ بات انھوں نے بدھ کی صبح وزیر اعظم نواز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

سندھ کی حکومت اور وفاق کے مابین رینجرز کے اختیارات سے متعلق کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب رواں ماہ صوبائی حکومت نے صوبے میں رینجرز کے قیام میں "اختیارات کو محدود" کرتے ہوئے 60 روز کے لیے توسیع کی تھی لیکن وفاقی حکومت نے توسیع کو تو منظور کر لیا لیکن اختیار کم کرنے کو تسلیم نہیں کیا۔

اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے اپنے دو صوبائی وزرا سہیل انور سیال اور مراد علی شاہ کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔

اس ملاقات کے بعد سرکاری طور پر کوئی بیان تو جاری نہیں کیا گیا لیکن قائم علی شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم نے انھیں کراچی آپریشن میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ایک ہفتے میں کراچی کا دورہ کر کے معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کسی حد تک مطمیئن ہیں۔

"دیکھیں ہم کسی حد تک مطمیئن ہیں جب تک یہ (معاملہ) پوری طرح حل نہیں ہوتا تب تک تو ان (وفاق) کے سامنے ہماری یہ بات تو ہے۔ چودھری صاحب آئیں گے بات کریں گے کیونکہ پھر 60 دن کے بعد پھر بات اٹھے گی۔"

رینجرز کے اختیارات کو محدود کرنے کے بارے میں قائم علی شاہ کا کہنا تھا یہ تاثر بالکل غلط ہے اور آئین کی شق 147 کے تحت کسی بھی صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاق سے کسی بھی ادارے یا اشخاص کی خدمات حاصل کرنے کی مشروط اور غیر مشروط درخواست کر سکتی ہے۔

"ہم نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہمارا نقطہ نظر آئینی ہی ہے اسے تسلیم کیا جائے اور رینجرز پر کوئی قدغن نہیں کچھ ضوابط ہیں، آئین میں لکھا ہے وہ ہمارا آئینی حق ہے جو ہم نے استعمال کیا ہے۔"

ان کے بقول صوبائی حکومت نے رینجرز سے متعلق قرارداد صوبائی اسمبلی میں پیش کی جو کہ اکثریت سے منظور ہو گئی اور اس قرار داد سے قبل سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔

"ہم نے قرارداد سے پہلے ڈی جی رینجرز کو اعتماد میں لیا کہ ہم یہ 60 دنوں کے لیے کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ آپ ذرا جلدی کر لیں اور تھوڑا وقت بڑھائیں جیسے کہ پہلے 120 دن تھا تو ہم نے کہا کہ یہ ہوتا رہے گا۔"

سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے رینجرز کی کارروائیوں پر اس وقت ردعمل دیکھنے میں آیا جب اس ادارے نے زمینوں پر قبضے اور دیگر بدعنوانی کے معاملات پر کارروائی شروع کی اور پھر سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور سابق مشیر ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری سے یہ ردعمل مزید شدید ہوگیا۔

قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ رینجرز کو جو اختیارات دیے گئے ہیں ان میں انسداد دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔

"جو چار اختیارات ہیں ان پر سے کسی حد تک ہٹنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔ان چار چیزوں میں کرپشن شامل نہیں، کرپشن صوبائی معاملہ ہے۔۔۔ہمارے پاس انسداد بدعنوانی کا ادارہ ہے وہ خوش اسلوبی سے کام کر رہا ہے۔"

رینجرز اور پولیس نے مشترکہ طور پر کراچی میں ستمبر 2013ء میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا تھا جس کے بعد ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں امن و امان کی صورتحال میں حکام کے بقول 80 فیصد بہتری دیکھی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG