رسائی کے لنکس

افغانستان میں تبدیل ہوتی صورتِ حال، سابق امریکی فوجی بھی حیران


گزشتہ 20 برس میں امریکہ کے سات لاکھ 75 ہزار فوجیوں نے امریکہ میں خدمات انجام دی ہیں۔ جب کہ 2010 اور 2010 میں سب سے زیادہ 98 ہزار فوجی افغانستان میں تعینات تھے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی ریاست میزوری میں مقیم امریکی فوج کے سابق افسر اسٹیو ہاچرسن اس وقت حیرانی کا شکار تھے جب وہ اپنے گھر میں ٹی وی اسکرین پر افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتِ حال کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

اسٹیو ہاچرسن کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ یہ سب دیکھنا کافی مشکل تھا۔

اسکائپ کے ذریعے دیے گئے انٹرویو میں ویت نام کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ نے سائیگان کا سقوط ہوتے ہوئے اس کی ویڈیوز دیکھی ہوں گی۔ بالکل وہی سب دہرایا جا رہا تھا۔ وہاں پر لوگوں کی تربیت کی گئی تھی اور بہت سارے اخراجات بھی کیے گئے تھے البتہ سب کچھ بے کار چلا گیا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی واپسی اسٹیو ہاچرسن کے لیے ذاتی صدمہ بھی ہے۔

وہ ان فوجی اہلکاروں میں شامل تھے جن کو 19 برس قبل 2002 میں افغانستان بھیجا گیا تھا۔ وہ کابل کے شمال میں واقع بگرام ایئربیس میں تعینات تھے۔ ان کی ذمہ داری ریڈار کے ذریعے جنگی طیاروں کی معاونت کرنا تھا۔

ان کا شمار امریکہ کے ان ابتدائی فوجیوں میں ہوتا ہے جن کو افغانستان سے دہشت گروں کے خاتمے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ افغانستان میں امریکہ کے ساتھ ساتھ اتحادی افواج کے طیاروں کو بھی کارروائیوں میں معاونت فراہم کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سب کرنے کا نتیجہ یہ تھا کہ گزشتہ 20 سال سے ہم سب محفوظ تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ایک نئی اور جمہوری افغان قوم بنانے کی کوشش میں امریکہ ایک ’ناقابلِ فتح‘ جنگ میں پھنس چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ ایک خیال کے لیے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن کسی خیال سے ہتھیاروں کے ذریعے نہیں لڑ سکتے۔

میری لینڈ کی رہائشی رہنڈا لاسن افغانستان میں تیزی سے حکومت کو شکست کھاتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے زیادہ حیران کرنے دینے والی کی بات یہ تھی کہ اس سب کی رفتار کس قدر تیز ہے۔

رہنڈا لاسن بھی 20 برس قبل بگرام ایئر فیلڈ میں تعینات تھیں۔ وہ تعلقات عامہ کے دفتر میں ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں۔ انہوں نے افغانستان میں قومی فوج کی تربیت کے لیے امریکہ کی کوششوں کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا۔

کابل پر طالبان کے قبضے کے ایک دن بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس سب سے میرے خیالات تبدیل ہوئے کہ کیا افغانستان کی فوج اپنے ملک کے دفاع کے لیے تیار تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کو یہ سمجھ نہیں آیا کہ افغانستان کی فوج کے اہلکار لڑنا نہیں چاہتے تھے یا ان کو اس لیے کامیابی نہیں ملی کہ طالبان جلد سے جلد قابض ہونا چاہتے تھے جس طرح انہوں نے کیا۔ یہ سب بہت زیادہ حیران کر دینے والا تھا۔

اسٹیو ہاچرسن یو ایس نیشن ایئر گارڈ سے ریٹائرڈہونے کے بعد سویلین ایئر ٹریفک کنٹرولر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے افغانستان کی فوج کی تربیت کے لیے بہت زیادہ اخراجات کیے تھے تاکہ وہ اپنے لیے لڑ سکیں۔ لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ وہ خود ایسا نہیں چاہتے۔ لیکن اس کی وجوہات کیا ہیں یہ نہیں معلوم۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ خود اپنے لیے نہیں لڑنا چاہتے تو امریکہ کے فوجی وہاں ہمیشہ تو نہیں رہ سکتے۔ امریکہ نے وہاں 20 سال گزارے ہیں۔ آئندہ 20 برس میں امریکہ وہاں کیا تبدیلی لا سکتا تھا؟

گزشتہ 20 برس میں امریکہ کے سات لاکھ 75 ہزار فوجیوں نے امریکہ میں خدمات انجام دی ہیں۔ جب کہ 2010 اور 2010 میں سب سے زیادہ 98 ہزار فوجی افغانستان میں تعینات تھے۔

ڈین میلبور نے بھی 2002 سے 2007 کے درمیان افغانستان میں خدمات انجام دی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 20 برس بعد اب افغانستان میں امریکہ کی فوج کی موجود کا جواز نہیں تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG