رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں پہلی بار نایاب نسل کے تیندوے کے جوڑے کی نشاندہی


بلوچستان میں جنگلی حیات سے متعلق محکمے کے اعلیٰ افسر شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے کہ چھ ماہ قبل یہ جوڑا ’ہزار گنجی وائلڈ لائف پارک‘ میں دیکھا گیا تھا۔

پاکستان میں نایاب نسل ’پرشیئن لیپرڈ‘ (تیندوے) کا جوڑا دیکھا گیا ہے۔ مقامی حکام نے اس جوڑے کی سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیو کی بھی تصدیق کر دی ہے۔

بلوچستان میں جنگلی حیات سے متعلق محکمے کے اعلیٰ افسر شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے کہ چھ ماہ قبل یہ جوڑا ’ہزار گنجی کوائلڈ لائف پارک‘ میں دیکھا گیا تھا۔

بالغ تیندوے عام طور پر تنہا ہوتے ہیں اور صرف افزائش نسل کے لیے کچھ عرصہ جوڑے کی صورت میں رہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے شریف الدین بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس جوڑے کی عکس بندی اور ویڈیو بنانے کے لیے عملے کو کیمرے اور دوربین فراہم کیے تھے۔ رواں ماہ ہمارے عملے کو ان کی عکس بندی میں کام یابی حاصل ہوئی ہے۔

پرشیئن لیپرڈ کی نسل کے تیندوے ترکی، ایران، افغانستان اور قفقاز کے پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

یہ تیندوے کی انتہائی نایاب نسل تصور ہوتی ہے اور اسے حیوانات کے تحفظ کی عالمی تنظیم ’انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر‘ (آئی یو سی این) کی جانب سے معدومی کے خطرے سے دو چار حیوانات کی انواع میں شامل کیا گیا ہے۔

دنیا بھر کے جنگلوں میں ان تیندوؤں کی تعداد ایک ہزار بتائی جاتی ہے جب کہ ان میں سے 200 زیرِ تحویل ہیں۔

شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے کہ اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔

تیندوے کے جوڑے کی ویڈیو ہزار گنجی پارک کے حکام نے بنائی ہے جس میں انہیں چٹانوں پر ٹہلتے دکھایا گیا ہے۔

شریف الدین بلوچ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پرشیئن لیپرڈ نسل سے تعلق رکھنے والے تیندوے پاکستان میں نہیں دیکھے گئے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں تیندوے کی ’انڈین لیپرڈ‘ نسل پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ شمالی ہمالیائی علاقوں میں پائی جانے والی برفانی تیندوے کی نسل بھی یہاں پائی جاتی ہے۔ اس تیندوے کی قسم کو بھی معدومی کے خطرات لاحق ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG