رسائی کے لنکس

logo-print

رشیدہ طلیب امریکی کانگریس کی پہلی مسلمان خاتون رکن بننے کے قریب


رشیدہ طلیب۔ فائل

مسلمان امریکی خاتون رشیدہ طلیب امریکی ریاست ایلی نوئے کے شہر مشی گن کے تیرھویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوان نمائندگان کیلئے منتخب ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

مشی گن سے سابقہ ریاستی نمائندہ رشیدہ طلیب ڈیموریٹک پارٹی کی طرف سے ایوان نمائندگان کی اُمیدوار تھیں اور اس حلقے سے رپبلکن پارٹی نے کوئی اُمیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ یوں اگرچہ ایوان نمائندگان کے انتخابات نومبر میں ہونے والے ہیں، رشیدہ پہلے ہی یہ انتخاب تقریباً جیت چکی ہیں۔

رشیدہ طلیب اس حلقے سے جان کانیرز کی جگہ ایوان نمائندگان کی رکن بنیں گی جو 1965 سے علاقے کی نمائندگی کر رہے تھے۔ تاہم جنسی ہراس کا الزام لگنے کے بعد اُنہوں نے گزشتہ برس استعفےٰ دے دیا تھا۔

رشیدہ طلیب نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دس لاکھ ڈالر سے زائد چندہ اکٹھا کیا اور اُنہیں 33.6 فیصد ووٹ ملے۔ اُن کی قریبی حریف ڈیٹرائٹ کونسل کی صدر برینڈا جونز تھیں جو علاقے کی مقبول شخصیت گردانی جاتی تھیں۔ تاہم برینڈا اس انتخاب میں 28.5 فیصد ووٹ حاصل کر پائیں۔

دریائے اُردن کے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والی اس امریکن مسلمان خاتون نے گھر گھر جا کر اپنی انتخابی مہم چلائی ہے۔ اُن کے علاوہ امریکہ بھر سے 90 کے لگ بھگ مسلمان امریکی ایوان نمائندگان کا انتخاب لڑنے کیلئے کم کس چکے ہیں۔ ان میں مینے سوٹا سے ایک صومالی امریکن خاتون الہان عمر بھی انتخاب کی بھرپور تیاریوں میں ہیں اور اگر وہ بھی کامیاب ہو گئیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ بھی رشیدہ طلیب کے ساتھ ساتھ کانگریس وومن کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

رشیدہ کے والدین فلسطین سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے اور راشدہ 1976 میں ڈیٹرائٹ میں پیدا ہوئی تھیں۔ اُنہوں نے وائن سٹیٹ یونیورسٹی سے سیاسات اور قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG