رسائی کے لنکس

logo-print

عبوری چالان پیش، مولانا سمیع الحق کیس ’اندھا قتل‘ قرار


فائل

راولپنڈی پولیس نے مولانا سمیع الحق قتل کیس کا عبوری چالان عدالت میں پیش کر دیا ہے، جس میں اس واقعے کو اندھا قتل قرار دیا گیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ جتنے بھی مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ان سے کیس میں اب تک کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کی عدالت میں ایس ایچ او تھانہ ایئرپورٹ نے مولانا سمیع الحق قتل کیس کا عبوری چالان پیش کر دیا ہے۔

یہ عبوری چالان قتل کی واردات کے 1 ماہ اور 2 دن بعد پیش کیا گیا، جو کہ 3 صفحات پر مشتمل ہے۔

عدالتی چالان میں مقدمہ ’’اندھا قتل‘‘ قرار دیتے ہوئے کسی بھی شخص کو قتل کا ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش 13 مشکوک افراد شاملِ تفتیش کئے گئے۔ مشکوک افراد کے ڈی این اے اور ’پولی گرافک ٹیسٹ‘ کرائے گئے۔ لیکن، ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور اس سلسلے میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

چالان میں شامل ابتدائی ’میڈیکو لیگل‘ رپورٹ کے مطابق مولانا سمیع الحق کا چہرا، ماتھا، کاندھا، پیٹ اور گال شدید زخمی تھے۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کا لازمی قانونی تقاضا زبردستی پورا نہیں کرنے دیا گیا۔ مقتول کے بیٹے کا موقف تھا کہ پوسٹ مارٹم شرعی حرام ہے، اس لئے میت کا پوسٹ مارٹم نہیں کرائیں گے۔

قتل کے بعد اسپتال کے باہر موجود مظاہرین میت کو جبری طور پر پوسٹ مارٹم کرائے بغیر لے گئے۔ اس سلسلے میں عدالت میں پوسٹ مارٹم کے لئے قبر کشائی کی درخواستیں دیں مگر اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر کی شام راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے ’سفاری ولاز‘ میں واقع ان کے اپنے گھر میں قتل کیا گیا تھا۔

مولانا سمیع الحق کا تعلق اکوڑہ خٹک سے تھا اور انہیں ’فادر آف طالبان‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے مدرسہ سے سینکڑوں افغان طالب علم تعلیم حاصل کرتے رہے اور بعدازاں طالبان بن کر افغانستان میں حکومت بھی کرتے رہے۔ مولانا سمیع الحق کا طالبان پر اثر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ عرصے میں طالبان میں ان کے اثر و رسوخ میں بہت کمی آگئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG