رسائی کے لنکس

logo-print

'انضمام سے فاٹا میں حقیقی امن کی راہ ہموار ہوگی'


فاٹا سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام سے امن کی حقیقی راہ ہموار ہو گی۔

سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی سے متاثر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے ایک روز بعد جمعے کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام اور قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام سے امن کی حقیقی راہ ہموار ہو گی۔

"اب (فاٹا) میں بغیر ویزے کے یا بغیر لیگل ڈاکیومنٹیشن کے وہاں کوئی نہیں رہ سکے گا۔ جیسے آپ پاکستان میں نہیں رہ سکتے۔۔۔ تو ظاہر ہے کہ امن کی طرف بہت بڑی پیش قدمی ہے اور یہ نہیں کہ صرف ہمارے قبائلیوں کے لیے۔۔۔ ہم سے زیادہ افغانستان کے لیے کیوںکہ ہمارا 1700 کلومیٹر قبائلی علاقے کا بارڈر افغانستان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس کا فائدہ افغانستان کو بھی پہنچے گا کیونکہ ہمارے علاقے سے اب کوئی افغانستان لڑنے کے لیے نہیں جائے گا۔"

شاہ جی گل آفریدی کا کہنا تھا کہ اس نئی قانون سازی کے بعد اب قبائلی عوام کو کوئی اپنے مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔

"کوئی ہمیں یہ نہیں کہے گا کہ یہ دہشت گرد ہیں۔ اگر دہشت گرد ہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرے۔ تو ظاہر ہے کہ ابھی بہت بڑی بات ہو گئی۔"

اُنھوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت کا اس معاملے پر اتفاقِ رائے بہت بڑی کامیابی ہے۔

"میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی قومی ایشو کے اوپر سب سیاسی پارٹیاں، ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ہمارے باقی ادارے اس طرح ایک پیج پر نہیں تھے۔۔۔ ایک قدم اٹھایا گیا ہے جو کہ ایک بہت بڑا کام تھا۔ آئندہ کے لیے بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔"

پاکستان کے سابق مشیرِ خارجہ اور فاٹا سے معلق اصلاحات تیار کرنے والی کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ اس قانون سازی کے بعد اب عملی اقدامات شروع ہو سکیں گے۔

"اس سے بڑی بنیادی تبدیلی یہ آئے گی کہ وہاں سکیورٹی یقینی ہو جائے گی۔ کیوں کہ کے پی کا جو انفراسٹرکچر ہے، انتظامی طور پر بھی اور سکیورٹی بھی وہ بالکل بارڈر تک اب پہنچ جائے گا۔ اس کے علاوہ وہاں جو عوام ہے چونکہ ایف سی آر ختم ہو گئی اور عدالتیں قائم ہو گئیں تو (لوگوں کو قانونی تحفظ ملے گا)۔"

لیکن جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالف ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی رکنِ قومی اسمبلی عالیہ کامران نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "سوچنے کی بات ہے کہ اگر آپ انضمام کر دیتے ہیں تو ایک ایسا صوبہ جو خود عدالتوں اور [۔۔۔] چیزوں کا بوجھ برداشت کر رہا ہے (اس پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا)۔"

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور بعض دیگر قانون ساز یہ کہہ چکے ہیں کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے 31 ویں آئینی ترمیم کی منظوری وہاں اصلاحات کے نفاذ کی جانب پہلا قدم ہے۔

آئینی ترمیم کے تحت آئندہ 10 برسوں میں ہر سال 100 ارب روپے فاٹا کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ اُس علاقے میں دستیاب سہولتوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG