رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنے پر بھارتیوں کا ردعمل


بھارت کے ذرائع ابلاغ میں آج (بروز پیر) سب سے بڑی خبر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل ریاست کی حیثیت کے خاتمے سے متعلق ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی بحث ہورہی ہے۔

بھارت نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل تھا۔

اس دفعہ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر اب مرکزی حکومت کا حصہ بن چکا ہے جہاں صرف اسمبلی موجود ہوگی۔

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس فیصلے پر جہاں جموں و کشمیر کے عوام سراپا احتجاج ہیں وہیں بھارت میں اس پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت بات ہورہی ہے اور اس وقت بھارت میں ٹوئٹر پر پیش ٹیگ 'آرٹیکل 370' ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ آج کا دن بھارتی جمہوریت کا ایک سیاہ دن ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے یکطرفہ طور پر دفعہ 370 کا خاتمہ غیر قانونی و غیر آئینی ہے۔ اس سے بھارت کو کشمیر میں ایک 'غاصب فورس' کا درجہ مل جائے گا۔

بھارت کے سابق وزیر خزانہ اور بی جے پی کے راجیہ سبھا کے رکن ارون جیٹلے نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ حکومت کے فیصلے سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مدد ملے گی۔ ان کے بقول وہاں زیادہ تجارتی سرگرمیاں شروع ہوں گی، نجی تعلیمی ادارے کام کریں گے، لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے اور آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا۔

بھارتی مصنف سلیل ترپاٹھی نے حکومت کے اس فیصلے پر سوال کیا کہ حکومت کے فیصلے کے بعد آئندہ کیا ہوگیا اور کیا اتحاد کے لیے قائم مجسمے کو بھی ڈھا دیا جائے گا؟

جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے دو اراکین نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف اسمبلی میں شدید احتجاج کیا۔ رکن ایم ایم فیاض نے احتجاجاً اپنا کرتا بھی پھاڑ دیا۔

بھارتی وزیر خزانہ انوراگ ٹھاکر نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر حقیقیت میں بھارت کے لیے لازم و ملزوم ہے۔

​جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کرنے پر بھارتی کرکٹر سریش رائنا نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنا تاریخی اقدام ہے، اب آگے بڑھنا چاہیے۔

سری نگر سے تعلق رکھنے والے صحافی اور ناول نگار مرزا وحید کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ کشمیر میں ہر چیز پر پابندی لگ چکی ہے، موبائل فون سروس، انٹر نیٹ یہاں تک کے لینڈ لائن بھی بند ہے، وہ اپنے والدین سے بات نہیں کرسکتے۔ انہیں نہیں معلوم کے اِس وقت اُن کے پیارے کس حال میں ہیں۔

​ٹوئٹر صارف منجوناتھ گوپال راٹھور اپنی ایک ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ نہ ہی آرٹیکل 370 ہوگا، نہ ہی ملکی سالمیت کا کوئی تنازع ہوگا۔

​ٹوئٹر صارف آدرش رائے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر کہتے ہیں کشمیر میں زمین دستیاب ہے سوچ رہا ہوں کہ گرمیوں کے لیے ایک پلاٹ لے ہی لوں۔

دفعہ 35-اے کی تاریخ:

جموں و کشمیر پر 1947 میں بھارت کے کنٹرول کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم شیخ عبد اللہ نے کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کا ڈرافٹ تیار کیا۔ جس کے مطابق ریاست کے دفاعی، خارجی، اقتصادی اور مواصلاتی امور مرکز کے پاس ہوں گے۔

شیخ عبداللہ نے مہاراجا ہری سنگھ اور جواہر لعل نہرو پر زور دیا کہ اس دفعہ کو عارضی طور پر نہیں بلکہ اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خود مختار بنایا جائے لیکن مرکزی حکومت نے اُن کی اس خواہش پر عملدر آمد نہیں کیا۔

بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی ہدایت پر اُس وقت کے صدر راجیندر پرشاد نے دفعہ 370 کے تحت 1954 میں حکم نامہ جاری کیا جسے دفعہ 35-اے کا نام دے کر آئین کا حصہ بنایا گیا۔

دفعہ 35- اے ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مستقل رہائشیوں کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔

دفعہ 35-اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے، اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے۔

دفعہ 35-اے کے تحت بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زمین کی خرید و فروخت کے علاوہ سرکاری نوکریوں اور وظائف، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اُس کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG