رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں ٹائیفائیڈ کی وبا پھیلنے کا خطرہ


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ سندھ میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال اورپینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی سے ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک تقریبا دس ہزار سے زائد لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔۔ ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقداماات نہ کئے گئے تو اس بات کے امکانات پیدا ہوجائیں گے کہ ٹائیفائیڈ جیسی بیماری بھی قابو سے باہر ہو جائے گی۔

ماہرین کے مطابق ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کو سپر بگ ٹائیفائیڈ بھی کہا جاتا ہے جو سب سے پہلے صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں دریافت ہوا تھا۔ اس مرض کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات میں سیوریج ملا پانی پینا، غیرمعیاری غذائیں استعمال کرنا اور گندگی شامل ہے۔ نومبر 2016 میں اس مرض کا پتہ کے بعد حکام کے مطابق اب تک اس سے دس ہزار سے زائد مریض متاثر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس بخار سے بیس سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی ہیں لیکن محکمہ صحت صرف آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کرتا ہے۔

متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ٹائفائڈ اس بخار کا نام ہے جو سیلمانولا ٹائیفی نامی جراثیم سے پھیلتا ہے اور یہ جراثیم آلودہ پانی اور کھانے میں پنپتا ہے۔ لیکن 20، 25 برس پہلے کلورومائسیٹین اور سیپٹران جیسی ادویات سے باآسانی ٹائیفائیڈ کا علاج ممکن تھا لیکن گزشتہ چند سالوں سے یہ ادویات ناکارہ ہوگئیں جس کے بعد ڈاکٹروں نے مزید اینٹی بائیوٹکس استعمال کیں جن میں سیپروفلاکسسن کا گرو پ شامل ہے۔ تاہم اس عرصے میں یہ ادویات بھی بخار کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں اور اس کا جراثیم قدرے مضبوط ہوکر نکلا ہے جس پر یہ تمام ادویات اثر نہیں کرتیں۔ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا ہے کہ اگر اس پر قابو پانے کے لئے موثر اور بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو یہ بے قابو بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائی فائیڈ کے جراثیم کی مختلف ادویات کے مقابلے میں پیدا ہوجانے والی طاقت کے باعث اسے ایکس ڈی آر یعنی ایکسٹریم ڈرگ ریزسٹنٹ ٹائی فائیڈ کا نام دیا گیا ہے۔ ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ دیگر بخار کی قسموں سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس کے جراثیم پر عام اینٹی بائیوٹک دوائیں اثرانداز نہیں ہو رہیں کیونکہ اس کے جراثیم طاقتور شکل اختیار کر چکے ہیں۔

مرض کی بین الاقوامی سطح پر سب سے پہلے تشخیص اس وقت ہوئی تھی جب پاکستان سے برطانیہ جانے والے ایک مریض میں اس مرض کی نشاندہی ہوئی۔ مریض کے علاج کے دوران ہی اس مرض پر مزید تحقیق برطانیہ میں ہوئی اور یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مرض کی وجہ گندہ پانی پینا اور غیر معیاری غذائی اشیاء کا استعمال تھا۔ مرض سامنے آنے کے بعد امریکہ اور دیگر مملک نے بھی اپنے شہریوں کو حیدرآباد، کراچی اور دیگر شہروں میں جانے سے قبل یہ ہدایت کی ہے کہ وہ ٹائیفائیڈ بخار کی ویکسین ضرور لیں۔

ماہرین کے مطابق بخار کی اس قسم سے بچاؤ کے لئے صفائی ستھرائی اور صاف پانی کا استعمال بے حد ضروری ہے جبکہ بلا ضرورت اینٹی بائیٹوک ادویات کے استعمال سے بھی اجتناب کرنا چائیے۔ غیر معیاری اشیاء کا استعمال ترک کئے جانے سے بخار کی اس خطرناک قسم کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت سندھ نے اس مرض سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی ٹائیفائیڈ کانجو گیٹ ویکسین حاصل کرنے کے لیے بھارتی کمپنی بھارت بائیوٹیک انٹرنیشنل سے دوائی منگوانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے بات چیت آخری مراحل میں ہے تاہم بھارت میں اس دوا کی مانگ زیادہ اور رسد کم ہونے کے باعث پاکستان کو یہ دوا اکتوبر 2019 تک ملنے کی توقع ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ایکس ڈی آر بخار کی ویکسین ایک حفاظتی اقدام ہے جو اس بخار کو پھیلنے سے روک سکتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ ویکسین تیار نہ ہونے کے باعث اسے بھارت سے منگوانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بھارت میں تیار کی جانے والی یہ ویکسین سستی بھی پڑے گی۔

صوبائی حکومت کے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ اس مرض پر فی الحال دریافت ہونے والی دو اینٹی بائیوٹک ادویات ہی کار آمد ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یہ دوا صرف مستند ماہرین ہی کی ہدایت پر استعمال کی جائے۔ ورنہ مرض میں پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں اور یہ خطرناک اور ناقابل علاج انفیکشن کی جانب بھی مریض کو لے جاسکتا ہے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG