رسائی کے لنکس

کراچی سینٹرل جیل سے قیدیوں کی ’داعش‘ میں بھرتی کی افواہیں


رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ اب تک دو درجن سے زائد ملزمان کے داعش میں شمولیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم، پولیس نے ان خبروں سے لاعلمی کا اظہار اور دفتر خارجہ نے داعش کی موجودگی کی خبروں کی تردید کی ہے

کراچی کی سینٹرل جیل پچھلے کچھ سالوں سے خبروں کا گڑھ بنی ہوئی ہے۔ 13 اکتوبر 2014 کو سینٹرل جیل میں سرنگ کی موجودگی، اس کے فوری بعد جیل سے جدید ترین تفریح کے آلات ملنے، رینجرز کے آپریشن، خطرناک قیدیوں کے فرار کے بعد اب اسی جیل سے داعش کی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

پاکستان کی مقامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ انکشاف سیکورٹی یا حساس اداروں کی جانب سے خفیہ اطلاعات پر دو دہشت گردوں کو حراست میں لئے جانے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کے دوران سامنے آیا۔

رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ اب تک دو درجن سے زائد ملزمان کے داعش میں شمولیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم، پولیس نے ان خبروں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

​وائس آف امریکہ کے نمائندے نے پولیس ذرائع سے اس کی تصدیق کے لئے رابطے کئے۔ لیکن، کسی بھی حوالے سے ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ البتہ کئی مقامی چینلز نے ’ذرائع‘ کے حوالے سے بدھ کی رات یہ خبریں دی تھیں کہ کچھ گرفتار ملزمان نے بیان دیا ہے کہ جیل میں داعش کے لئے بھرتیاں کی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ پچھلے دو سال سے جاری ہے ۔

ادھر اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران پاکستان میں داعش کی موجودگی سے متعلق خبروں کی تردید کی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی سینٹرل جیل سے کچھ ماہ قبل فرار ہونے والے دو خطرناک ملزمان سے متعلق ایک رپورٹ محکمہ داخلہ اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان افغانستان فرار ہوچکے ہیں۔

دونوں ملزمان نے جیل کے واش روم میں اپنی داڑھی صاف کی اور بال تراشے تاکہ آسانی سے پہچان میں نہ آسکیں۔ پولیس کو جیل کے واش روم سے ملزمان کے بال اور ریزر کا پیکٹ بھی ملا تھا جس کی تصاویر اتار کر میڈیا کو بھی جاری کی گئیں۔

دونوں ملزمان کے فرار کی تحقیقات کئی ہفتوں تک جاری رہیں۔ تحقیقات کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو بھی سامنے آئے جن میں بتایا گیا تھا کہ انہیں جیل کے اندر موجود افراد نے فرار ہونے میں مدد کی۔

اس سے قبل 13 اکتوبر 2014 کو جیل میں زیر زمین سرنگ کا انکشاف ہوا جو جیل سے کچھ فاصلے پر منسلک غوثیہ کالونی کے ایک گھر سے کھودی گئی تھی۔ منصوبے کے تحت اسے جیل میں نکلنا تھا تاکہ وہاں موجود خطرناک قیدیوں کو فرار کرایا جاسکتا۔ تاہم، عین وقت پر سیکورٹی اداروں کو اس کی اطلاع مل گئی اور یوں ایک بڑا واقعہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔

اس وقت رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر نے اس واقعے سے متعلق ناصرف میڈیا کو تصدیق کی بلکہ سرنگ کی ویڈیو اور تصاویر بھی دکھائیں۔

اس واقعے کے بعد جیل کی سیکورٹی کو انتہائی سخت بنا دیا گیا۔ دیواروں پر آہنی جال نصب کردیئے گئے۔ ساتھ ہی دیواروں کے آگے ریت کے بڑے بڑے بورے رکھ دیئے گئے، تاکہ دیواریں کسی بھی چیز سے ٹکرانے سے محفوظ رہ سکیں۔

اسی وقت سے جیل میں موبائل فون جیمرز بھی نصب ہیں اور سیکورٹی کیمرے بھی 24 گھنٹے اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ جیل کی دیواروں پر سرچ لائٹس اور پہرے دار بھی تعینات ہیں۔

جیمرز اس قدر اسٹرانگ ہیں کہ ناصرف آس پاس کی آباد ی کو موبائل فون سگنلز نہ ملنے کا شکوہ ہے بلکہ دن رات جیل کے قریب سے گزرنے والے افراد کے موبائل فون بھی جیل کی حدود میں دور دور تک کام نہیں کرتے۔ رات کے دس بجتے ہی جیل کے قریب سے ہوکر گزرنے والے کچھ مخصوص راستے بھی عام ٹریفک کے لئے بند کردیئے جاتے ہیں۔ جیل کی تصاویر یا ویڈیو بنانا بھی سخت منع ہے۔

جیل کے اندر قیدیوں سے ملاقات کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملاقات کے لئے سیکورٹی کا بہت لمبا چوڑا طریقہ کار اپنانا پڑتا ہے۔

گزشتہ مہینے سینٹرل جیل کراچی میں موجود کچھ انتہائی خطرناک قیدیوں کو ملک کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا گیا کیوں کہ جیل پر دہشت گردوں کے حملے کی اطلاعات تھیں۔

جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیل کی حفاظت اور کسی بھی ناخوش گوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے یہ اقدامات کئے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG