رسائی کے لنکس

logo-print

خانہ جنگی اور غربت سے فرار ہونے والے بچے یورپ کی پُر خطر راہ پر


ان میں ایسے بچے بھی تھے جنھوں نے اپنی آنکھوں سے سر قلم ہوتے دیکھے ہیں۔ ان حالات میں والدین نے ان کے تحفظ کے پیش نظر انھیں فرار ہونے کا مشورہ دیا تھا

خانہ جنگی کے شکار شام اور دیگر ملکوں میں جنگ اور غربت سے فرار ہو کر ہزاروں تنہا بچے والدین کے بغیر یورپ کے پُرخطر سفر پر گامزن ہیں، اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ نوعمر تنہا بچے ان ہزاروں پناہ گزینوں میں شامل ہیں جن کا سیلاب ان دنوں یورپ میں امڈ آیا ہے۔ یورپ کے پُرخطر سفر پر روانہ ہونے والے ان بچوں کی اکثریت کے ساتھ والدین نہیں ہیں۔ ان میں سے چند کو مغربی یونان میں پناہ گاہیں مل گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد اب بھی شاہراہوں اور فٹ پاتھوں پر پڑی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ برس کے دوران اس طرح کے 24 ہزار ایسے نوعمر بچوں کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائی ہے جبکہ اس سے کہیں زیادہ تعداد ایسے بچوں کی ہے جو کسی اعداد و شمار میں شامل نہیں۔

ریڈیو فری یورپ کے نمائندے نے ان بچوں سے ملاقات کے لئے گزشتہ دنوں یونان کا دورہ کیا جو ان پناہ گزینوں کا پہلا پڑاؤ ہے۔ ان بچوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کرسکتے۔

انھوں نے داعش کے لوگوں کو قتل عام کرتے دیکھا ہے، جو محض معمولی غلطیوں پر لوگوں کے سر قلم کر دیتے ہیں۔

ان میں ایسے بچے بھی تھے جنھوں نے اپنی آنکھوں سے سر قلم ہوتے دیکھے ہیں۔ ان حالات میں والدین نے ان کے تحفظ کے پیش نظر انھیں فرار ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

یونان میں ان جیسے چند بچوں کی کونسلنگ کی جا رہی ہے، تاکہ انھیں صدمے کی کیفت سے نکالا جائے۔ ایسے ہی لاوارث بچوں کے ایک مرکز کی نگراں ڈیمترا ردمانڈو کہتی ہیں کہ ان کی کوشش ہے کہ بچوں کو خوف اور صدمے کی کیفیت سے نکالا جائے، تاکہ وہ معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں۔

ان بچوں میں افغانستان کا علی بھی ہے جو انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں ترکی کے راستے یورپ پہنچا ہے۔

علی کا کہنا ہے کہ اسمگلر ایک ایک کشتی پر پچاس پچاس لوگوں کو بھر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہر وقت ان کے ڈوبنے کا خطرہ رہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سال تنہا اور والدین کے بغیر سیاسی پناہ کے لئے آنے والے ان بچوں کی تعداد دوگنا ہوجائے گی۔

XS
SM
MD
LG