رسائی کے لنکس

غیرقانونی افغان پناہ گزینوں کے اندراج کا عمل شروع


فائل فوٹو

پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ افغان باشندے موجود ہیں جن میں سے لگ بھگ 10 لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے اندراج کا سلسلہ بدھ کو شروع ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس دوران بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان میں رہنے والے تقریباً 10 لاکھ افغان پناہ گزینوں کا اندراج کیا جائے گا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق رجسٹریشن کے اس عمل کے لیے خیبر پختونخوا میں 11، بلوچستان میں پانچ، پنجاب میں دو، اسلام آباد میں دو اور ایک مرکز کراچی میں قائم کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اندراج کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام افغانوں کے کوائف جمع کیے جائیں اور ان کا اندراج کیا جائے جن سے متعلق کوئی ڈیٹا حکومت کے پاس نہیں اور اسی بنا پر انھیں پولیس کی طرف سے ہراساں اور پریشان کیے جانے کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے بعد ان شکایات کا ازالہ ہو سکے گا۔

پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ افغان باشندے موجود ہیں جن میں سے لگ بھگ 10 لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

گزشتہ برس لگ بھگ ڈھائی لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس گئے تھے جب کہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں غیر اندراج شدہ افغان باشندے بھی اپنے ملک لوٹ گئے تھے۔

پاکستان کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ دہائیوں تک افغان پناگزینوں کی میزبانی کرنے کے بعد یہ نہیں چاہتی کہ وطن واپس جانے والے پاکستان کے بارے میں کوئی برا تاثر لے کر جائیں لیکن افغان پناہ گزینوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی شناخت کے لیے قانونی دستاویزات حاصل کریں۔

ایسے افغان شہری جن کا ڈیٹا حکام کے پاس موجود ہے، انھیں رضاکارانہ وطن واپسی پر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی طرف سے مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے جب کہ غیر اندراج شدہ افغان اس سہولت سے محروم رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG