رسائی کے لنکس

logo-print

اقبال مسیح کا ایڈریس ہوگا آپ کے پاس؟


فائل

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اور وفاقی وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔ ان کے چاہنے والوں کے مطابق، ان میں دوسروں کی مدد کا جذبہ ہے۔ وہ ٹوئیٹر پر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اور جب انھیں کسی شخص کے مشکل میں ہونے کی خبر ملتی ہے تو اس کی مدد کے لیے پتا اور تفصیلات دریافت کرتے ہیں۔

لیکن، کبھی کبھی انہونی بھی ہو جاتی ہے؛ جیسا کہ گزشتہ روز ہوا۔

ایک شخص نے ٹوئیٹر پر اقبال مسیح کی برسی پر اس کی تصویریں لگائیں۔ اقبال مسیح ایک پاکستانی بچہ تھا جس نے 90 کی دہائی میں چائلڈ لیبر کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ وہ 10 سال کی عمر میں جبری مشقت کے کیمپ سے بھاگا تھا لیکن 2 سال بعد اسے قتل کر دیا گیا تھا۔

سینیٹر رحمان ملک کو یہ سب تفصیل معلوم نہیں تھی۔ انھوں نے جو ٹوئیٹ پڑھا، اس میں بھی صرف اقبال مسیح کو یاد کیا گیا تھا۔ انھوں نے لکھا: "کیا کوئی شخص مجھے اس بچے کا پتہ فراہم کر سکتا ہے؟"

صحافی مہوش اعجاز نے کہا: "کیا آپ سنجیدہ ہیں؟ اس لڑکے کو قتل کردیا گیا تھا۔ کیا آپ واقعی نہیں جانتے؟" ارم عظیم فاروقی نے بتایا، "رحمان صاحب وہ بہت عرصہ پہلے انتقال کر چکا ہے"۔ احمد وقاص گورایا نے جواب دیا، "اپنا میسج بکس دیکھیں۔ میں نے آپ کو اس کا نمبر بھیجا ہے"۔

ایم نے لکھا، "اوہ میرے خدایا"۔ دانستان نے کہا، "آپ قطعی ناقابل یقین ہیں"۔ عمر نے ٹوئیٹ کیا، "خدا کا خوف کریں"۔ بلال رعد نے تحریر کیا، "کیسی ستم ظریفی ہے"۔ شاہد ارشاد نے ان الفاظ میں تنقید کی، "بے خبری کی انتہا ہے۔ یہ صاحب کسی دور میں وزیر داخلہ تھے"۔

کاؤچنگ ٹائیگر نے لکھا، "ملک صاحب، وہ 1995 میں آپ (پیپلز پارٹی) کی حکومت میں قتل کیا گیا تھا"۔ امین نے تبصرہ کیا، "اسی لیے آپ لوگوں کو ابھی تک پتا نہیں چلا کہ بھٹو کا بھی انتقال ہوچکا ہے"۔ ای او پی ٹور نے مذاق کیا، "حضرت عزرائیل سے رابطہ کریں"۔

قمر ریاض چیمہ نے کہا، "میں تب ہی اس کا پتہ بتاؤں گا جب آپ اس کے پاس ذاتی حیثییت میں جانے کا وعدہ کریں گے"۔ بلال حسن نے لکھا، "لاعلمی بڑی نعمت ہے"۔ عدیلہ نے اظہار تاسف کیا، "اقبال! مجھے ایک بار پھر بے حد افسوس ہے"۔

کئی لوگوں نے اس لاعلمی کے باوجود رحمان ملک کی تعریف کی۔ مصطفیٰ وائیں نے لکھا، "نیک کام کرتے رہیں سر، قوم کو آپ پر فخر ہے"۔ پرشانت جھا نے کہا، "اپنے ملک میں اقلیتوں کی مدد کریں جو بھوک سے مر رہے ہیں"۔

اینکینڈو نام کے ٹوئیپ نے بتایا کہ انھیں ایک ذاتی واقعہ یاد آگیا۔ بہت سال پہلے وہ قدیم یونانی تاریخ داں زینوفون کی کتاب تلاش کرنے ایک بک اسٹور گئے۔ سیلزمین نے کتاب کا نام پوچھا اور کہا کہ ان کے پاس وہ کتاب نہیں ہے۔ پھر مشورہ دیا کہ مصنف سے براہ راست رابطہ کرکے منگوالیں۔

رحمان ملک نے اس ٹوئیٹ کو ڈیلیٹ نہیں کیا۔ لیکن، بعد میں ایک اور ٹوئیٹ کرکے اپنی لاعلمی پر معذرت کی۔ انھوں نے لکھا کہ اگر انھیں اقبال مسیح کے اہلخانہ کے بارے میں آگاہ کیا جائے تو وہ ان کی مدد کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG