رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کا ایران سے امریکی رپورٹر کی رہائی کا مطالبہ


حقوق انسانی کے ماہرین کے بقول، جیسن کی حراست بنیادی قوائد کی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد نہ صرف صحافیوں، بلاگرز، حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں اور دیگر لوگوںٕ کا تحفظ ہے، بلکہ سب لوگوں کے اطلاعات کے حق کی ضمانت دیا جانا لازم ہے

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایران سے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے نمائندے کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جنھیں ایک برس سے زیادہ مدت سے زیر حراست رکھا گیا ہے، جن کے خلاف عائد کردہ الزامات میں جاسوسی کا الزام بھی شامل ہے۔

جیسن رضائیاں کے مقدمے میں فیصلہ اگلے ہفتے کے اوائل میں آنے کا امکان ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے آزادی اظہار، ڈیوڈ کائے نے جمعے کو ایک بیان میں کہی ہے۔
بقول اُن کے، جیسن کی حراست بنیادی قوائد کی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد نہ صرف صحافیوں، بلاگرز، حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں اور دیگر لوگوںٕ کا تحفظ ہے، بلکہ سب لوگوں کے اطلاعات کے حق کی ضمانت دیا جانا لازم ہے۔

کائے نے کہا ہےکہ ’رضائیاں کو قید رکھنا اور سارے دِن اُن کی تفتیش جاری رہنا جسمانی اور نفسیاتی بوجھ کا باعث معاملہ ہے‘۔

واشنگٹن پوسٹ کے انتظامی ایڈیٹر، مارٹن بیرون نے کہا ہے کہ بیان ایسے فیصلہ کُن لمحے میں سامنے آیا ہے، اور اس سے مقدمے میں ایران کی طرز عمل کو غیرقانونی قرار دینے کے اخبار کے مؤقف کی سربلندی کا باعث ہے۔
اُنھوں نے اس مقدمے کو ’جعلی‘ قرار دیا۔

انتالیس برس کے رضائیاں کو 22 جولائی، 2014ء کو اُن کی بیوی، یگانے صالحی، جو خود بھی صحافی ہیں، اور دو فوٹو جرنلسٹس کے ہمراہ تہران میں حراست میں لیا تھا۔

بعدازاں، رضائیاں کے علاوہ باقی تمام افراد کو رہا کیا گیا، جن کے بارے میں ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے کہا ہے کہ جرم ثابت ہونے پر، اُنھیں 10 سے 20 برس قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

رضائیاں امریکہ میں پیدا ہوئے، اور پلے بڑھے، اور وہ امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت کے مالک ہیں۔ ایران اپنے شہریوں کی دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا۔

XS
SM
MD
LG