رسائی کے لنکس

شہری انتظامیہ کے انتباہ کے باوجود، مذہبی جماعت کا دھرنا جاری


ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی طرف سے جاری ہونے والا یہ خط مذہبی جماعت تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے نام لکھا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ نے دھرنے کے شرکا کو ایک بار پھر تحریری طور پر خبردار کیا ہے

اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر دس روز سے جاری مذہبی جماعت کے دھرنے کے حوالے سے ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کیلئے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تحریری طور پر انتباہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت ہوگی جس پر انتظامیہ سخت ایکشن لے سکتی ہے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی طرف سے جاری ہونے والا یہ خط مذہبی جماعت تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے نام لکھا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ نے دھرنے کے شرکا کو ایک بار پھر تحریری طور پر خبردار کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ دھرنا مروجہ قوانین، عدالتی حکم اور پبلک آرڈر کی خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے انتظامیہ کی طرف سے دھرنے کے شرکا کو دو مرتبہ تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔

خط میں احتجاج کیلئے پریڈ گراؤنڈ میں مختص جگہ اور ہائیکورٹ کے حکم کی بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اب چونکہ ہائیکورٹ کے واضع احکامات ہیں، تو اس لیے ضروری ہے کہ فیض آباد انٹرچینج کے علاقہ کو فوری خالی کیا جائے۔

اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر فیض آباد انٹرچینج کا علاقہ خالی نہ کیا گیا تو قانون حرکت میں آسکتا ہے؛ اور یہ کہ فیض آباد انٹر چینج خالی نہ کرنے والے افراد توہین عدالت کے مرتب ہورہے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے جنکش پر جاری اس دھرنے کی وجہ سے جڑواں شہروں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے5 لاکھ سے زائد شہری شدید اذیت سے دوچار ہیں، فیض آباد انٹرچینج بند ہونے سے ٹریفک کا سارا دباؤ متبادل سڑکوں پر ہے جو موجودہ صورتحال میں اس دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

دونوں شہروں کے درمیان جو سفر دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا تھا اس میں اب ڈھائی سے تین گھنٹے کا وقت درکار ہے۔ شہر کی صورتحال کی وجہ سے دفاتر اور اسکولوں میں طلبہ کی حاضری کم ہوگئی ہے، جبکہ میٹرو سروس بند ہونے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمیابی کی وجہ سے شہریوں کو بھاری کرائے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تحریک لبیک یارسول اللہ کی دائر کردہ پٹیشن پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ ’’جس نبی کی خاطر آپ بیٹھے ہیں وہ تو دوسروں کے راستہ سے کانٹے چن لیتے تھے اور آپ نے عام شہریوں کے راستے ہی بند کررکھے ہیں‘‘۔

لیکن، مذہبی جماعت نے عدالتی احکامات کو اب تک تسلیم نہیں کیا اور دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG