رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: دور افتادہ دیہاتیوں کا آن لائن ’صحت مرکز‘ سے طبی مشورہ


اسکائپ

اونچی سرسبز پہاڑیوں کی اوٹ میں واقع ایک دور افتادہ پاکستانی گاؤں میں محمد فیاض اپنے دو برس کے بیٹے کو ایک قریبی کلینک لاتا ہے، تاکہ سکیڑوں کلومیٹر دور بیٹھی ایک خاتون ڈاکٹر بچے کا معائنہ کر سکہں۔

ایسے میں جب ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سہولت تیزی سے پھیل رہی ہے، پاکستان کے دیہات بھی صحت عامہ کی انقلابی تبدیلیوں سے مستفید ہونے لگے ہیں۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین ڈاکٹروں تک رسائی ممکن ہوگئی ہے۔ اور یوں، نقل و حمل کی مشکلات جھیلنے والے لوگ جغرافیہ اور ثقافتی رکاوٹوں کی بندش سے آزاد ہو کر آن لائن سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔

اس سے قبل، طبی امداد کے لیے فیاض شمالی صوبہ ٴخیبر پختونخواہ میں واقع بھوسا نامی اپنے گاؤں سے کئی گھنٹوں کا سفر طے کیا کرتے تھے، اور تب جا کر کہیں ایبٹ آباد یا پشاور کے شہروں میں پہنچ کر گھنٹوں تک کلینک کی لمبی قطار میں کھڑے ہوتے تھے، تب جا کر اُن کو معائنے کی سہولت میسر آتی تھی۔

اس قبائلی اور قدامت پسند ملک میں خواتین معالجوں سے علاج کرانا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ جب شادی کے بعد یا ماں بننے پر، طبی پیچیدگی کے معاملوں میں کبھی کبھار خواتین کو وہاں سے 1500 کلومیٹر (930 میل) کے فاصلے پر جنوبی بندرگاہ والے شہر، کراچی میں، جو کہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، لے جایا جاتا تھا۔

اب، ’صحت کہانی‘ نامی کراچی کے ایک صحت عامہ کے ادارے کی جانب سے اسکائپ پر معائنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کی بدولت مسئلہ آسان ہوگیا ہے، ڈاکٹروں کو کام میں آسانی سی ہوگئی ہے، جب کہ دیہات میں رہنے والوں کو طبی مشورہ میسر آنے لگا ہے۔

فیاض نے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کو بتایا کہ ’’میرے بیٹے نے بس دوائی کی پہلی خوراک لی ہے اور اُسے خاصہ افاقہ ہوگیا ہے‘‘۔ اُنھوں نے اپنے گاؤں سے کراچی کے ڈاکٹر سے وڈیو کانفرنس پر ’صحت کہانی کلینک‘ میں موجود خاتون معالج سے بالمشافیٰ گفتگو کی اور اُس کی تسلی ہوگئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG