رسائی کے لنکس

’’یہ معاملہ اب کیوں اٹھایا گیا؟‘‘: جنرل زبیر کے بیان پر والٹر اینڈرسن کا سوال


واہگہ بارڈر (فائل)

جنرل زبیر محمود حیات کے بیان پر اپنے تجزئے میں، ڈاکٹر جوناہ بلینک نے کہا ہے کہ ’’کارگل تنازعے کے دوران پاکستان میں ایٹمی اثاثے نقل و حرکت میں آئے تھے‘‘۔ تاہم، اس وقت، بقول ان کے، ’’امریکہ نے کارگل تنازعے کو زائل کرنے میں مدد دی تھی‘‘

پاکستانی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل زبیر محمود حیات کے اس بیان پر کہ ’’کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی جوہری تنازعے کا سبب بن سکتا ہے‘‘؛ اور اس پر یہ سوال کہ کیا واقعی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں، امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم از کم، نوے کی دہائی کے وسط سے، دونوں ممالک کے پاس نہ صرف جوہری ہتھیار تھے، بلکہ انہیں چلانے کی صلاحیت اور طریقہٴ کار بھی موجود تھا۔ تو یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن، صرف اس وجہ سے کہ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے موجود ہے ’’اس کی ہولناکیوں کا درجہ کسی بھی صورت کم نہیں ہوتا‘‘۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے، امریکی تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ کے سینئر سیاسی تجزیہ کار، جوناہ بلینک، جو سینیٹ کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی امور کے پالیسی ڈائریکٹر رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ’’میرے خیال میں، بھارت اور پاکستان دونوں ہی اُن انتہائی خطرناک نتائج سے بہت اچھی طرح واقف ہیں جو کسی تنازعہ کے قابو سے باہر ہونے کی صورت میں برآمد ہو سکتے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم نے اسے حال ہی میں سن 1999ء میں کارگل بحران کے دوران دیکھا تھا۔ اور اگر کوئی کسی ممکنہ تنازعے میں اضافے سے ناواقف تھا تو کارگل نے دکھا دیا تھا کہ واقعی ایسا ہو ممکن ہے۔‘‘

جان ہاپکنز یونویرسٹی کے سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹدیز میں قائم ساؤتھ ایشیا سٹدیز کے سربراہ، ڈاکٹر والٹر اینڈرسن کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ عشروں سے پاکستان، بقول اُن کے، ’’یہی کہتا آیا ہے‘‘، اور خصوصی طور پر جب سے کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی برادری کے رد عمل میں تبدیلی آئی ہے، جو نوے کی دہائی میں ہوئی، جب مسئلہ کشمیر، استصوابِ رائے سے دہشت گردی کے معاملے میں تبدیل ہوا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہاں، امکانی طور پر ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں فریق اپنا دِماغی توازن کھو بیٹھیں‘‘۔

لیکن، اُنھوں نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا کیونکہ دونوں جانب خاصے معقول لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ تو صرف پروپیگینڈا کے مقاصد کیلئے ہے، اور دوسرے فریق کی اپنی الگ پروپیگینڈا تکنیک ہے۔‘‘

تاہم، ڈاکٹر والٹر اینڈرسن کا کہنا تھا کہ اصل سوال تو یہ ہے کہ یہ بات اب کیوں کہی گئی؟

انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔ لیکن، ہو سکتا ہے کہ یہ داخلی طور پر سیاسی چال بازیوں کیلئے ہو، تاکہ، چند ماہ سے پاکستان کو درپیش داخلی اور سیاسی معاملات میں فوج اپنی کوئی بات غیر فوجی قوتوں کو سمجھا سکے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ معاملہ اب کیوں اٹھایا گیا؟ یہ ماضی میں بھی سامنے آیا تھا۔ لیکن، ابہی کیوں۔ اور ایک سویلین شخصیت یا کسی حکومتی شخص کی بجائے، ایک فوجی شخصیت کے ذریعے ہی کیوں؟‘‘


ڈاکٹر جوناہ نے بھی اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے علم نہیں کہ جینرل زبیر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان موجود ایٹمی تناؤ کو ابھارنے کیلئے یہ وقت کیوں منتخب کیا؟ یہ کشیدگیاں تو گزشتہ 20 سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہیں، اور حال کے مقابلے میں اس سے کہیں زیادہ کہیں زیادہ خطرناک لمحات آئے تھے۔‘‘

ڈاکٹر والٹر کہتے ہیں کہ سب سے اچھی بات تو یہ ہوگی کہ اس کا کسی قسم کا حل نکالا جائے اور اس بارے میں کوئی سمجھوتہ ہو۔ اُن کے خیال میں، اس کا بہترین حل، کئی سال پہلے، جنرل مشرف نے اپنی تجویز میں دیا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر کوئی بھی فریق اپنی خود مختاری نہ کھوئے بلکہ تعاون کو فروغ دے، خاص کر سرحد کے آرپار معاشی سرگرمیوں کیلئے، جیسے کہ توانائی اور دیگر سرگرمیاں۔ لیکن، یہ بات کوئی زیادہ آگے نہیں بڑھی اور کسی بھی فریق نے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی‘‘۔

ڈاکٹر جوناہ کا کہنا ہے کہ اس کا مثبت پہلو امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے دوران تعلقا ت سے اخذ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دونوں ملک ایٹمی صلاحیت کے حامل تھے اور اس کی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف تھے۔

انہوں نےکہا کہ دونوں ملک اپنے تعلقات میں بہت محتاط رہے۔ دونوں نے نہ صرف تنازعے کو کبھی قابو سے باہر نہیں ہونے دیا بلکہ اس کیلئے اعتماد سازی کے اقدام کئے۔

ڈاکٹر جوناہ بلینک نے بتایا کہ کارگل تنازعے کےدوران پاکستان میں ایٹمی اثاثے نقل و حرکت میں آئے تھے۔ تاہم، اس وقت، بقول ان کے، امریکہ نے کارگل تنازعے کو زائل کرنے میں مدد دی تھی۔ لیکن، کسی مستقبل کے تنازعے میں کسی کو پتہ نہیں کہ پاکستان ایسا چاہے گا کہ امریکہ وہی کردار ادا کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG