رسائی کے لنکس

آزادی صحافت کو کبھی اتنا خطرہ لاحق نہیں رہا: رپورٹ


سال 2017ء کی رپورٹ

رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بدھ کے روز آزادی صحافت پر سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میڈیا کی آزادی کو کبھی اتنا خطرہ لاحق نہیں رہا‘‘۔

ذرائع ابلاغ کے حقوق پر نگاہ رکھنے والے اِس گروہ نے خصوصی طور پر جمہوری ملکوں کا حوالہ دیا، جہاں گذشتہ سال کے دوران آزادی صحافت کو دھچکا لگا۔

ادارے نے کہا ہے کہ ’’بیمار ذہن والے بیانات، آمرانہ قوانین، متضاد مفادات، یہاں تک کہ جسمانی تشدد کے استعمال کے ذریعے جمہوری حکومتیں آزادی کو کچل رہی ہیں، جنھیں اصولی طور پر، سرکردہ کارکردگی کا پیمانہ ہونا چاہیئے تھا‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت اُن مقامات پر بُری طرح سے اثرانداز نظر آتی ہے جہاں ’’مطلق العنان حکمرانی کے ماڈل کامیاب ہو رہے ہیں‘‘، جیسا کہ پولینڈ، ہنگری اور ترکی۔

’رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز‘ کے سکریٹری جنرل، کرسٹوفر ڈلور نے کہا ہے کہ ’’جمہوریتوں کے برہم ہونے کی شرح پریشان کُن حد تک بڑھتی جا رہی ہے، جو حقائق جانتے ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں، اگر میڈیا کی آزادی محفوظ نہیں ہوگی، تو پھر کوئی اور آزادی میسر آنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘‘۔

مجموعی طور پر، سال 2017ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 62 فی صد ملکوں میں آزادی صحافت زوال پذیر ہے۔

ناروے، سویڈن، فِن لینڈ، ڈینمارک اور نیدرلینڈز وہ ملک ہیں جہاں صحافیوں کو اعلیٰ سطح کی آزادی میسر ہے۔

’رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز‘ نے کہا ہے کہ فہرست میں شمالی کوریا سب سے نچلی سطح پر ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ملک اپنے عوام کو لاعلمی اور دہشت زدہ رکھ رہا ہے۔ ساتھ ہی، فہرست کی نچلی ترین سطح پر، شمالی کوریا سے تھوڑا سا آگے، اریٹریا، ترکمانستان، شام اور چین کو دکھایا گیا ہے۔

وہ ملک جہاں سال 2016کے مقابلے میں گذشتہ برس بہتری آئی اُن میں لاؤس، پاکستان، سویڈن، برما اور فلپائن شامل ہیں۔ ادھر، سب سے زیادہ زوال سعودی عرب، ایتھیوپیا، مالدیپ اور ازبکستان میں آیا۔
رپورٹ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اُنھوں نے جو انداز اختیار کیا، اُس میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کو اکثر ہدف بنایا گیا اور اُن کی رپورٹوں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ ’’وائٹ ہاؤس کے اِن نئے صاحب نے نفرت پر مبنی تقریر میں میڈیا پر جھوٹ بولنے کے الزام لگائے جنھیں دنیا بھر میں ہر جگہ میڈیا پر حملے کے حوالے سے چرچہ ہوا، جن میں جمہوری ملک شامل ہیں‘‘۔

سنہ 2016 میں امریکہ 43ویں درجے پر تھا، جو مزید دو درجے نیچے چلا گیا۔ برطانیہ جہاں گذشتہ سال ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا، وہ اب فہرست میں 40 ویں درجے پر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG