رسائی کے لنکس

logo-print

بلدیہ ٹاوٴن فیکٹری میں دانستہ آگ لگائی گئی: تفتیشی رپورٹ


ملزمان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، جنھوں نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا۔ بھتہ نہ ملنے کی وجہ سے فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ ملزم کراچی میونسپل کارپوریشن کا سنیٹری ورکر ہے

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاوٴن کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں 11ستمبر 2012ء کو آتشزدگی کے واقعے کے حوالے سے رینجرز کی تفتیشی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ دانستہ طور پر لگائی گئی تھی۔ یہ رپورٹ جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی جہاں واقعے سے متعلق مقدمہ تاحال زیر سماعت ہے۔

تین سال قبل پیش آنے والے اس واقعے میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ درجنوں خاندان اس سانحے سے بری طرح متاثر ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔ رینجرز نے تحقیقات کے دوران، ایک ملزم سے تفتش کی تو اس نے یہ تمام انکشافات کئے۔

سانحہ بلدیہ ٹاوٴن کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ کر رہا ہے، جس میں رینجرز کے قانونی افسر نے مذکورہ رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق، تفتیش کے دوران ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ملزم نے تسلیم کیا کہ اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کی مدد سے فیکٹری میں کیمیکل پھینکا جس سے آگ لگ گئی۔

رینجرز کے لاء آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ بھتے کے تنازع پر پیش آیا۔

ملزمان نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا۔ بھتہ نہ ملنے کی وجہ سے فیکٹری کو آگ لگادی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ نے رپورٹ کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے، جسے ’جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم‘ نے مرتب کی ہے۔

مذکورہ ملزم کو ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کا سنیٹری ورکر ہے۔

سانحے بلدیہ ٹاوٴن کو جانی و مالی نقصان کی مناسبت سے ’پاکستان کا نائن الیون‘ قرار دیا جاتا ہے۔ واقعے کے وقت، فیکٹری میں تقریباً 1000 افراد اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے کہ اچانک یہ حادثہ ہوا۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیکٹری سے نکلنے کا ایک ہی مرکزی راستہ تھا جو دھویں اور آگ کی شدت کے باعث بند ہوگیا تھا، جس کے سبب اموات میں اضافہ ہوا۔

XS
SM
MD
LG