رسائی کے لنکس

logo-print

ملاحوں کا حراست میں لیا جانا، معاملے سے ’’بچا جا سکتا تھا‘‘: رپورٹ


جنوری میں ہونے والا یہ واقعہ کئی مسائل کا نتیجہ تھا، جس میں قائدانہ صلاحیت کی کمی، چوکنہ رہنے اور ضابطوں کی پاسداری نہ کرنے، نامناسب منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی ’’عدم موجودگی‘‘ ذمہ دار تھی: رپورٹ

مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے کمانڈر کے مطابق، اِس سال کے اوائل میں ایرانی پاسدارنِ انقلاب کی جانب سے 10 امریکی ملاحوں کو زیر حراست لینے کے معاملے سے ’’بالکل بچا جا سکتا تھا‘‘۔
جمعرات کو جاری ہونے والی بحریہ کی دستاوزات میں امریکی بحریہ کے نائب ایڈمرل کیون دونگنان، جو امریکی بحریہ کی سینٹرل کمان کے کمانڈر ہیں، کہا ہے کہ جنوری میں ہونے والا یہ واقعہ کئی مسائل کا نتیجہ تھا، جس میں قائدانہ صلاحیت کی کمی، چوکنہ رہنے اور ضابطوں کی پاسداری نہ کرنے، نامناسب منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی ’’عدم موجودگی‘‘ ذمہ دار تھی۔

واقعے کے بارے میں رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے، دونگنان نے تحریر کیا کہ ’’ڈسپلن کی عدم پیروی اور امریکی بحریہ کے بنیادی اقدار کی پاسداری میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے، یہ خوش قسمتی ہے کہ اس دستے کو اس سے پہلے اس طرح کا کوئی واقع پیش نہیں آیا‘‘۔

بحری کارروائیوں کے سربراہ، ایڈمرل جان رچرڈسن نے جمعرات کو پینٹاگان میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اِس میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بھی غلطی تھی۔

رچرڈسن کے بقول، ’’تفتیش اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایران نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشتیوں کو بے ضرر گزر سے روکا‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے استثنیٰ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ایرانی ’’کشتیوں میں داخل ہوئے، تلاشی لی اور کشتیوں کو قبضے میں لیا اور عملے کی تصویر کشی کی اور وڈیو ٹیپ کیا‘‘۔

بارہ جنوری 2016ء کو دو کشتیوں میں سوار، نو مرد اور ایک خاتون ملاح کویت سے بحرین جاتے ہوئے خلیج فارس سے گزرے، جب امریکی کنٹرولرز کا اُن سے رابطہ منقطع ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، کشتیوں کے عملے نے گھنٹوں کی تاخیر سے اپنا مشن پھر سے شروع کیا، اور وقت بچانے کی کوشش میں ’’بغیر منصوبے کے ناجائز تجاوز سے کام لیا‘‘ جس کے باعث، وہ غیر دانستہ طور پر سعودی عرب کی علاقائی سمندری حدود اور ایرانی بحری علاقوں سے گزرے‘‘۔

رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ ایک کشتی کے انجن میں نقص پیدا ہوا جس کے باعث ’’اس میں چلنے کی سکت باقی نہیں تھی‘‘، جب وہ ایرانی علاقے کے قریب جزیرہٴ فارسی سے تین کلومیٹر دور تھی، جو اندازاً کویت اور بحرین کے درمیان نصف فاصلے پر واقع ہے۔ ملاحوں نے انجن کی خرابی اور غیر متوقع صورت حال کے بارے میں حکام کو برقت اطلاع نہیں دی، حالانکہ ایک کشتی میں رابطے کے آلات موجود تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب جو خلیج میں گشت پر تھے فارسی جزیرے کے قریب امریکی کشتیوں میں داخل ہوئے اور عملے کے ارکان کو حراست میں لیا۔ دوسرے دِن صبح اُنھیں رہا کیا گیا۔

رپورٹ سے پتا چلا کہ حراست کے دوران، عملے کے چند ارکان بحریہ کے معیاری ضابطہ کار کے مطابق عمل پیرا نہیں تھے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بندوق کی نوک پر چند ملاحوں نے کچھ نازک اطلاعات دیں، مثلاً فون اور لیپ ٹاپ کے پاس ورڈ۔

رچرڈسن کے بقول، ’’اُن ملاحوں کو واضح طور پر جنوری کے ہمارے اقدامات سے آگاہی تھی، اور ایسا واقع بحریہ کی ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا‘‘۔

XS
SM
MD
LG