رسائی کے لنکس

’داعش‘ پاکستان میں نیا خطرہ بن کر ابھری ہے: رپورٹ


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء میں پاکستان میں داعش کی طرف سے چھ مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جس میں 153 افراد مارے گئے۔

پاکستان میں سلامتی کی صورتِ حال پر کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز‘ کی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں داعش گزشتہ سال کے دوران ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء میں پاکستان میں داعش کی طرف سے چھ مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جس میں 153 افراد مارے گئے۔

واضح رہے کہ داعش نے گزشتہ سال کوئٹہ سے دو چینی شہریوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی جب کہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبد الغفور حیدری کے قافلے اور سندھ میں سیہون شریف میں صوفی برزگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملوں کی ذمہ داری بھی داعش کی طرف سے قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ مقامی فرقہ وارنہ شدت پسند گروپ بھی داعش میں شامل ہو رہے ہیں۔

’’(داعش) کا خطرہ، جس کے بارے میں ہم ابہام کا شکار تھے، اب لگتا ہے وہ تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ایسے گروپ جو پہلے فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث تھے، اُن کا رجحان داعش کی طرف نسبتاً زیادہ ہوا ہے اور داعش کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔‘‘

عامر رانا نے کہا کہ پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں داعش کی کارروائیاں بڑھی ہیں جہاں اُن کے بقول سکیورٹی فورسز کو مؤثر کارروائی کرنا ہو گی۔

پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء میں پاکستان میں 370 دہشت گرد حملوں میں 815 افراد ہلاک جب کہ 1700 سے زائد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان بلوچستان اور کرم ایجنسی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہوا۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں سے 58 فی صد کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ٹی ٹی پی‘ اور اس سے وابستہ تنظیمیں اب بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

رپورٹ کے برعکس وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا پیر کو سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں ملیں اور عسکریت پسندوں کے حملوں میں کمی آئی۔

پاکستانی حکام کی طرف سے ملک میں ’داعش‘ کی منظم موجودگی کی تو مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے لیکن ساتھ ہی حالیہ برسوں میں ملک کے کئی علاقوں میں کارروائیاں کر کے وہاں سے ’داعش‘ کے جنگجوؤں کو گرفتار کرنے یا اُنھیں مارنے کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے وہ علاقے جو پاکستان کی سرحد قریب ہیں وہاں ’داعش‘ کی موجودگی بڑھ رہی ہے جو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے لیے ایک خطرہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG