رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد پر مظاہرین اور فورسز میں جھڑپ، تین افراد ہلاک 22 زخمی


چمن سرحد

لیویز حکام کے مطابق، بلوچستان کے علاقے چمن میں پاک افغان سرحد پر جمعرات کے روز صبح سے ہی سیکورٹی فورسز اور افغانستان جانے والے تاجر و مسافروں میں کشیدگی شروع ہوئی جس کے بعد شام کے وقت مظاہرین نے زبردستی سرحد پار کرنے کی کوشش کی جس پر سیکورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔

حکام کے مطابق، بڑی تعداد میں جمع مظاہرین نے سیکورٹی کی رکاوٹوں کو اکھیڑ دیا اور فورسز کی چوکی کو نذر آتش کرتے ہوئے سرحد پار کی۔

دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہوگئے۔

ادھر چمن میں چھوٹے پیمانے پر تجارت کرنے والے تاجروں (لغڑی) کے ایک رکن قاسم لالا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں تاجر، مزدور اور افغانستان جانے والے لوگ صبح سے ہی چمن میں 'باب دوستی' پر شدید گرمی میں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے، مگر اچانک فورسز نے وجوہات بتائے بغیر سرحدی گزرگاہ بند کردی۔

قاسم لالا کے بقول، گیٹ بند کرنے کے خلاف انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد ''فورسز نے فائرنگ کی جس سے ہمارے کئی لوگ مارے گئے اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے''۔

ادھر چمن میں سول ہسپتال حکام کے مطابق، فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون کے علاوہ 40 سالہ شخص نقیب اللہ اور 28 سالہ عمران خان بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب واقعے میں زخمی ہونے والے بعض افراد کو طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے علاقے چمن میں پاک افغان سرحدی گزرگاہ کو حکومت پاکستان نے عید کے دوران جذبہ خیر سگالی کے طور پر گزشتہ روز تین دن کے لیے پیدل سفر کرنے والوں کے لیےکھول دیا تھا۔

پاک افغان سرحد کو کورونا وبا کے باعث رواں سال 2 مارچ کو آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں متعدد بار ٹرانزٹ ٹریڈ کی غرض سے سرحد کو کھولا گیا مگر یہ گزرگاہ پیدل سفر کرنے والوں کے لیے طویل عرصے سے بند رہی ہے۔

ادھر لیویز احکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نے سرحد سے متصل کرونا مریضوں کے لیے قائم 800 سے زائد خیموں اور کنٹینر سٹی کو بھی نظر آتش کیا اور آخری خبریں آنے تک چمن کی سرحد سے متصل علاقوں میں حالات کشیدہ تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG