رسائی کے لنکس

گوادر پورٹ کو 'افغان ٹرانزٹ ٹریڈ' کے لیے کھولنے کا فیصلہ کتنا فائدے مند؟


(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

حکومتِ پاکستان نے ملک کے جنوب میں واقع گودار کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کے لیے اشیا خورونوش اور دیگر اشیا برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

دونوں ملکوں کے کاروباری حلقے اس پیش رفت کو تجارت کے فروغ کے لیے اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے مشیر تجارت رزاق داؤد نےاس فیصلے کا اعلان منگل کو اپنی متعدد ٹوئٹس میں کیا۔

رزاق داؤد نے کہا کہ وزارتِ تجارت نے اسلام اور کابل میں 2010 میں طے پانے والے پاکستان افغانستان ٹرانزٹ معاہدے کے تحت گوادر پورٹ کو افغان ٹرانزٹ تجارت کے لیے کھول دیا ہے۔

ان کے بقول گودار بندرگاہ کے ذریعے اٖفغانستان کے لیے چینی، کھاد اور گندم کی برآمدات کی ترسیل سر بمہر ٹرکوں کے ذریعے کی جائے گی۔

عبدالرزاق داؤد نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں افغانستان کے لیے برآمد کی جانے والی 16 ہزار میٹرک ٹن کھاد، اور پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم آئندہ ماہ گوادر کی بندرگاہ پر پہنچے گی۔ اس کے ساتھ ان کے بقول چین سے آنے والے جہاز بھی گوار بندر گاہ پر اپنا سامان اتار سکیں گے۔

افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی شروع
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:41 0:00

رزاق داؤد کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کاروباری اور جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ برادری کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے بقول گوادر بندرگاہ اور اس سے منسلک شاہراہوں کے ساتھ کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

گوادر بندرگاہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے کھولنے کی اجازت ایسے وقت میں دی گئی ہےجب کرونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے علاوہ دیگر ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔

پاک افغان تجارت سے وابستہ کاروباری برداری کے نمائندوں کے مطابق سرحد بند ہونے سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لگ بھگ چھ ہزار برآمدی اشیا کے ٹرک کراچی اور پورٹ قاسم میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جن میں اشیائے خورونوش اور ادویات شامل ہیں۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے صدر زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ان کے بقول اس سے پاک افغان تجارت کو فروغ مل سکتا ہے۔ زبیر موتی والا نے مطالبہ کیا کہ کرونا وائرس کے باعث کراچی، طورخم اور چمن بارڈر پر پھنسے ٹرکوں کو جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔

ادھر پاکستان افغانستان چیمبر آف کامرس کے کابل دفتر کے سیکرٹری جنرل نقیب اللہ صافی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تجارتی برادری یہ چاہتی ہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقوں کے لیے گوادر بندرگاہ کو تمام تجارتی سامان برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

نقیب اللہ صافی کا کہنا تھا کہ 2012 میں پاک افغان تجارتی حجم دو ارب 50 کروڑ ڈالر تھا لیکن ان کے بقول اس وقت کم ہو کر صرف ایک ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاک افغان تجارت کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کر دیا جائے تو اس سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے حجم کو کئی گنا تک بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔

پاک افغان تجارتی برداری کے نمائندے نقیب اللہ کے بقول کرونا وائرس کی وجہ سے سرحد یں بند ہونے کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ تجارت کے لگ بھگ چھ ہزار کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے توقع کی ہے کہ حال ہی میں پاکستان حکومت کی طرف سے پاک افغان سرحد کو مال بردار گاڑیوں کی نقل و حمل کے کھولنے کی اجازت سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کرونا وائرس کے باعث بہت سا تجارتی سامان پاکستان میں پھنسا ہوا ہے۔ جسے افغانستان پہنچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ ڈاکٹر سرفراز احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داریاں پور ی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ان کے بقول حکومت نے افغانستان کے لیے تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے پاک افغان سرحدکو 10 اپریل سے ہفتے میں تین دن کے لیے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ان کے بقول بارڈر بند ہونے کے بعد افغانستان جانے والے دو ہزار کنٹینر پھنس گئے تھے۔ لہذا افغانستان کے لیے اشیا خورونوش، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی افغانستان کو جلد ترسیل پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔

XS
SM
MD
LG