رسائی کے لنکس

logo-print

غیرقانونی تارکینِ وطن، رپورٹ پر صدارتی امیدواروں کا ردِ عمل


اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ ایسے خاندانوں کے خلاف چھاپوں کا ایک سلسلہ شروع کرنے والا ہے جو گذشتہ برس کے اوائل سے غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے ہیں

امریکی صدارتی امیدواروں نے شائع ہونے والی اِس رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ جنوری سے اُن خاندانوں کو ملک بدر کرنا شروع کرے گا، جو ملک میں غیر قانونی طور پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔

ڈیموکریٹ محاذ کی سرکردہ امیدوار اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اِن رپورٹوں پر اُنھیں ’سخت تشویش‘ ہے کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی غیر قانونی تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر ملک بدر کرنے کا کام شروع کرے گا۔

کلنٹن کے صدارتی انتخاب سے وابستہ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ’اُن کا خیال میں، یہ بات اہمیت کہ حامل ہے کہ ہر ایک کو شنوائی کا پورا موقع دیا جائے اور ہمارا ملک اُن کو پناہ دیتا ہے جنھیں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

کلنٹن کے مدِ مقابل ڈیموکریٹک امیدوار، سینیٹر برنی سینڈرز نے جمعرات کو کہا ہے کہ اِن اطلاعات پر وہ ’بہت پریشان‘ ہیں۔ ایک بیان میں، سینیٹر نے کہا کہ ’ہمارا ملک ہمیشہ امید کی ایک کرن اور مظلوموں کے لیے پناہ گاہ رہا ہے۔۔۔ہمیں اُن بچوں اور خاندانوں کا تحفظ کرنا چاہیئے جو پناہ کی طلب رکھتے ہیں، نہ کہ اُنھیں دھکے دے کر باہر نکالنا چاہیئے‘۔

ریپبلیکن پارٹی کے سرکردہ امیدور، ریئل اسٹیٹ کے کاروباری اور ریلٹی ٹیلی ویژن کے ستارے، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں اس خبر کا سہرا اپنے سر لیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ملک بدری کے بارے میں اس لیے سوچا جا رہا ہے، چونکہ اس کے لیے اُنھوں نے حکومت پر دبائو ڈالا تھا۔ بقول اُن کے، ’اب (اِس کا) وقت آگیا ہے‘۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بدھ کی رات گئے ایک خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ ایسے خاندانوں کے خلاف چھاپوں کا ایک سلسلہ شروع کرنے والا ہے جو گذشتہ برس کے اوائل سے غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے ہیں۔

اخبار نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کی ’امیگریشن اینڈ کسٹمس انفورسمنٹ‘ کے اہل کار جنوری 2016ٗ کے اوائل میں اپنے کام کا آغاز کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی بار 100000 سے زائد خاندانوں کے ملک بدری کا کام کیا جائے گا، جو گذشتہ سال جنوبی سرحد سے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

اِن میں سے کئی ایک خاندان وسطی امریکہ میں جاری تشدد سے بچنے کے لیے بھاگ نکلے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ السلواڈور میں مار دھاڑ کی وارداتیں انتہا کو پہنچ چکی ہیں، جب کہ خشک سالی نے خطے میں پنجے گاڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد شمال کی جانب ہجرت پر مجبور ہے۔ گذشتہ برس ایسے بچوں نے ترکِ وطن کیا جن کے ساتھ اُن کے والدین نہیں تھے۔

لیکن، واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مرکز بالغ اور بچے ہوں گے جنھیں پہلے ہی اِمی گریشن کے ججوں نے ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جب کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اِس کارروائی کی حتمی منظوری نہیں دی۔

ادارے نے ابھی تک اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

ملک بدری کے لیے دبائو میں اضافہ آرہا ہے، کیونکہ اگست میں وفاقی فیصلہ آچکا ہے کہ ایسے بچے اور خاندان جنھیں امریکی حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے وہ ایسی بندش کے خلاف آواز بلند کر سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اِس فیصلے کے بعد، اکتوبر اور نومبر میں غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونےوالوں کی ایک اور کھیپ امریکہ میں داخل ہوچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG