رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: پولیس مقابلہ، 13 مبینہ دہشت گرد ہلاک


بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا، وہاں موجود دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی، جس کے جواب میں پولیس کو بھی ہتھیار اٹھانا پڑے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے

کراچی میں سہراب گوٹھ سے کچھ فاصلے پر واقع افغان بستی میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان پیر کی رات کے مبینہ مقابلے میں 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ ایک دہشت گرد کو خودکش جیکٹ کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ملیر راوٴانور کے مطابق، مرنے والے افراد کا تعلق القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

راوٴ انور کا کہنا ہے کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ افغان بستی میں کچھ دہشت گرد موجود ہیں۔ اس اطلاع پر، ضلع ملیر کی پولیس اور کمانڈوز نے ملکر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا۔

پولیس کی جانب سے بستی کا گھیراوٴ کیا گیا، جبکہ وہاں تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بھی سیل کر دیا گیا۔ طے شدہ حکمت عملی کے تحت پولیس نے جیسے ہی ایک مکان پر چھاپہ مارا وہاں موجود دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ جواب میں، پولیس کو بھی ہتھیار اٹھانا پڑے۔ جھڑپ کے نتیجے میں مبینہ طور پر 13دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جس مکان پر چھاپہ مارا گیا وہ کالعدم تحریک طالبان کے ایک کمانڈر کا ڈیرہ تھا۔ ان افراد کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے پولیس کی وردی پہنی ہوئی تھی۔

راو ٴانور نے دہشت گردوں کے قبضے سے ناجائز اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور خودکش جیکٹ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

مرنے والوں میں 4دہشت گردوں کا تعلق القاعدہ اور باقی کا تعلق طالبان سے بتایا جاتا ہے۔

واقعے کو مقامی میڈیا نے بھی نمایاں انداز میں کوریج دی ہے۔ کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چھاپے کے وقت پولیس اہلکاروں اور کمانڈوز پر دہشت گردوں نے دستی بموں سے بھی حملہ کیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں ملوث رہ چکے تھے۔

XS
SM
MD
LG