رسائی کے لنکس

logo-print

رپورٹرز ڈائری: وطن واپسی کے منتظر پاکستانی


فائل

امریکہ میں پھنسے پاکستانی لمبے عرصے سے وطن واپسی کے منتظر تھے ایسے میں پاکستانی سفارت خانے سے دو روز پہلے آنے والے فون سے دل کو کچھ سکون ملا، جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت پاکستان نے قطر ائیرویز کو جو دو پروازیں لینڈ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں ایک کی بکنگ ممکن ہے۔

میں چونکہ قطر ائیر سے ہی امریک آئی تھی اس لیے سوچا کہ بار بار کی ری بکنگ کے بعد ملنے والی فلائٹ جسے اٹھائیس اپریل کو واشنگٹن ڈی سی سے نکلنا تھا، شاید وہی فلائٹ ہو جسے لینڈنگ کی اجازت ملی ہے۔ مگر معمالات اس سے مختلف تھے۔

سفارتی عملے نے بتایا کہ یہ بکنگ قطر ائیر براہ راست کرے گا۔ ایسے میں پاکستانی سفیر اسد خان کا ٹویٹ دیکھا تو یقین ہو گیا کہ واپسی کی راہ نکل آئی ہے۔ کئی ساتھی مسافروں کو نیند سے جگا کر قطر ائرلائن کال کی جہاں ہیلپ لائن پر بتایا گیا کہ قطر ائیرلائن ایسی کسی بھی فلائٹ سے نا واقف تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے سفارت خانے سے رابطہ کیجے، کیونکہ شاید یہ کوئی سپیشل پرواز ہے۔ سپیشل پرواز ہونے کی صورت میں میری پرانی ٹکٹ کو ضم نہیں کیا جا سکے گا۔

مزید لوگوں سے بات کرنے پر یہ عقدہ کھلا کہ اس وقت تک نہ تو کوئی ایسی پرواز تھی اور نہ اس کا کوئی نوٹیفکیشن۔ اس مسئلے پر مزید روشنی پاکستان کے سفیر اسد خان کی اگلی ٹویٹ میں ڈالی گئی۔ انہون نے واضح کیا کہ حکومت نے قطر کی پرواز کا بندوبست کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے مگر ابھی کچھ معاملات پر مذاکرات جاری ہیں جن کی تفصیل جلد سامنے آجائے گی۔

یہ انتظار ایک فیس بک میسج سے ختم ہوا جہاں سے ایک فلائٹ بکنگ کا سکرین شاٹ مجھے کل دوپہر موصول ہوا۔ سید عرفان نقوی اپنے والد کے لیے سیٹ تلاش کر رہے تھے جو نیو یارک میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ ہی پرواز سپیشل پرواز ہے جس کی تفصیل انہوں نے مجھے ارسال کی تھی۔

وہ کافی بوکھلاہٹ کا شکار تھے اور جب میں نے وہ ٹکٹ پڑھی تو میں بھی کافی حیران ہوئی۔ ٹکٹ پر حکومت کی جاری کردہ چھبیس تاریخ لکھی تھی جو حکومتی ویب سائٹ پر بھی موجود تھی مگر نہ تو پرواز امریکہ کے دارلحکومت سے چل رہی تھی نہ نیو یارک، نا لاس اینجلس سے بلکہ اسے ڈیلس فورٹ ورتھ ٹیکساس سے اڑنا ہے۔

البتہ، اضافی قیمت اور چار گھنٹے مزید سفر کے ساتھ کنیکٹنگ فلائٹس سان فرانسسکو، لاس اینجلس، نیویارک سے چلائی جایں گی۔ کچھ سمجھ نہین آئی کہ اس اسٹیشن کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ کیونکہ قطر کی پروازیں امریکہ کے تمام اہم شہروں سے اڑتی ہیں۔ سب کو نہ سہی کچھ کمرشل فلایٹس کو لینڈنگ کی اجازت دی جاتی تو شاید مہینے بھر سے پھنسے مسافروں کو لاکھوں روپے کے اضافی بوجھ اور اڑتالیس گھنٹے کی تکلیف دہ پرواز سے بچایا جا سکتا تھا۔

اس دوران نقوی صاحب نے ذکر کیا کہ اسے کیسی خریدوں؟ اس کی قیمت دیکھی تو رہے سہیے ہوش بھی جاتے رہے۔ اس ٹکٹ کی قیمت تین لاکھ اسی ہزار سے کم نہ تھی۔ اور ڈیلس جانے کی ٹکٹ الگ تین سو ڈالر کی ہو گی، انہوں نے بتایا۔

عرفان نقوی نے فون رکھ دیا اور میں نے سفارت خانے کال ملائی۔ پتہ چلا کہ اسی پرواز سے جایا جاے گا، جسے بھی جانا ہو۔ اس دوران امریکہ میں تین مارچ سے موجود ایک بزنس مین ملک منظور سے رابطہ ہوا جو امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کے ایک آن لائن گروپ کا حصہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ باقائدہ تحریری طور پر حکومت پاکستان کو یہ تجویز دے چکے تھے کہ ایک کاؤنٹر یا آن لائن پورٹل بنایا جائے جہاں الگ الگ ائیر لائنز سے آئے افراد کی واپسی کی ٹکٹ کو نئی ائیر لائن کی پرواز میں کچھ رد و بدل کے بعد ضم کرنے کا کام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھی بات ہے کہ ایک فلائٹ کا انتظام ہوا مگر وہ ٹیکساس کیسے جایں؟ کیونکہ وہ ورجینیا میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وطن واپسی پر قرنطینہ میں ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کی بیگم اور وہ ابھی بھی منتظر ہیں کہ شاید ایسا کوئی حل نکلے جس کے ذریعے وہ باآسانی اور محفوظ طریقے سے سفر کر سکیں۔ انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کئی عزیز و اقارب امریکہ کی خصوصی پروازوں سے پاکستان سے لائے گئے۔ لیکن ان کی ٹکٹ کے دام معقول تھے۔

اس دوران، ان لوگو ں سے بھی بات ہوئی جو پرواز فوری بک کرنا چاہتے تھے۔ لیکن لاہور اور کراچی کے درمیان موجودہ حالات میں فضائی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اس پرواز کو لے نہیں سکتے جب کہ انٹر سٹی بسیں نہ ہونے کی وجہ سے لاہور سے اسلام آباد اور آزاد کشمیر جانے کے خواہش مند افراد بھی کافی پریشان نظر آئے۔

عرفان نقوی نے دوبارہ پوچھنے پر بتایا کہ ان کے والد اتنی تھکا دینے والی پرواز پر جانا نہیں چاہتے، کیونکہ ٹیکساس تک ساڑھے تین گھنٹے کی اضافی پرواز اور پھر مظفر آباد میں واقع ان کے گھر تک پہنچنے میں اتنی دشواری تھی کہ انہوں نے بکنگ ہی کینسل کر دی تھی۔

دیگر پاکستانیوں کی طرح، میرا کریڈٹ کارڈ بھی اپنی آخری حد تک خرچ ہو چکا تھا۔ موجودہ پرواز یقیناً اٹھ سو افراد کو تو لے کر جا نہیں سکتی۔ اس لیے سینکڑوں افراد اب بھی حکومتی مدد کے منتظر ہیں۔ اس دوران پاکستان ایمبیسی میں پریس اتاشی زوبیہ مسعود سے رابطہ کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ سفارت خانے کا ان تمام مسائل کے بارے میں کیا کہنا تھا جن کا ذکر مسافر کر رہے تھے۔

سفارت خانے کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ موجودہ حالات میں تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کی تمام کوششیں کر رہا ہے اور انہیں ہر ممکن سہولت دینے میں مصروف ہے۔ مگر آٹھ سو سے زائد پاکستانی جن مالی مشکلات کا شکار ہیں، اس میں مہنگی فلائٹ کیسے لی جائے؟

اس کا جواب نہ مل سکا۔ اب چونکہ پرواز میں زیادہ وقت نہیں اور چار لاکھ کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ بہت سے اور مسافروں کی طرح یہی سوچ رہی ہوں کہ فوری ادھار کون دے گا؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG