رسائی کے لنکس

logo-print

شام: قتلِ عام کا خوف، ساحلی شہر سے آبادی کا انخلا


شہر کی سنی العقیدہ آبادی کے انخلا کا عمل ہفتے کو علی الصباح شروع ہوا تھا اور اب تک سیکڑوں افراد شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق اور حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قتلِ عام کے خوف سے ملک کے ساحلی شہر بانیاس سے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق شہر کی سنی العقیدہ آبادی کے انخلا کا عمل ہفتے کو علی الصباح شروع ہوا تھا اور اب تک سیکڑوں افراد شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

قبل ازیں جمعے کو شامی حزبِ اختلاف کے مرکزی اتحاد نے صدر بشار الاسد کے حامی فوجی دستوں پر بانیاس کے نزدیک واقع ایک گائوں میں مقامی آبادی کے قتل ِ عام کا الزام عائد کیا تھا۔

حزبِ اختلاف کے رہنمائوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری افواج نے بیدا نامی گائوں کے کم از کم 150باشندوں کو قتل کردیا ہے جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ گائوں کی بیشتر آبادی کا تعلق سنی مکتبہ فکر سے بتایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی اکثریت کا تعلق بھی سنی مسلک سے ہے جس کے ماننے والوں کی شام میں اکثریت ہے جب کہ صدر اسد اور حکومت اور فوج کے بیشتر عہدیداران اقلیتی علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بانیاس میں علوی فرقے کے ماننےو الوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور بیدا میں ہونے والے مبینہ قتلِ عام کے بعد شہر کی سنی آبادی اسی نوعیت کی کسی ممکنہ پرتشدد کاروائی کے پیشِ نظر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہی ہے۔

اس نقل مکانی سے ایک روز قبل جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے شام میں امریکی فوجی مداخلت کے امکان کو رد کیا تھا۔

کوسٹاریکا کے دورے کے دوران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ شام میں ایسی کوئی صورتِ حال پیدا ہوتی نہیں دیکھ رہے جس کے نتیجے میں وہاں امریکی فوج کی مداخلت کی ضرورت پیش آئے۔

صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ شام کے بارے میں کسی امکان کو رد نہیں کرتے لیکن امریکی فوجی دستوں کی شام میں برسرِ زمین موجودگی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
XS
SM
MD
LG