رسائی کے لنکس

کلبھوشن جادھو کے مقدمے اور سزا پر نظر ثانی کا عمل شروع


فائل فوٹو

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں زیرِ حراست مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے اور سزا پر نظر ثانی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

جمعرات کو معمول کی بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کو ہم قونصلر رسائی دے چکے ہیں اور اس سلسلے میں اگلے منطقی اور قانونی اقدامات شروع ہو گئے ہیں۔

لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کلبھوشن جادھو کے مقدمے اور انہیں فوجی عدالت کے ذریعے سنائی جانے والی سزا کی نظر ثانی کا عمل کس عدالتی فورم پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف نے رواں سال جولائی میں پاکستان کو کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی طرف سے انہیں دی گئی سزائے موت پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

بھارت نے عالمی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کلبھوشن کی سزا ختم کرنے اور رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ لیکن عالمی عدالت اسے قبول نہیں کیا تھا۔

پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد دو ستمبر کو بھارت کو کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی فراہم کر دی تھی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورواہلو والیا سے کلبھوشن کی ملاقات کرائی گئی تھی۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ، بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ نئی دہلی یہ کوشش کرے گا کہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے پر پوری طرح عمل درآمد ہو اور اس کے لیے ہم پاکستان سے سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے میں رہیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو مبینہ طور پر جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت 2016 میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ کلھبوشن بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے اور اس کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے۔ لیکن بھارت اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ چکا ہے کہ کلبھوشن بحریہ کا ریٹائرڈ افسر ہے جس کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان کی فوج کے ریٹائرڈ کرنل انعام رحیم ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کی سزا کے فیصلے پر وہی فوجی عدالت نظر ثانی کر سکتی ہے جس نے اسے یہ سزا سنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت مقدمے پر نظر ثانی ایک طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت ہے وہی مجاز افسر جس نے ابتدائی طور پر یہ فوجی عدالت تشکیل دی تھی وہ نظر ثانی کا ایک تحریری حکم نامہ جاری کرتا ہے۔ انعام رحیم کے بقول، اس حکم نامے میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی طرف سے دی گئی آبزرویشنز کو تحریری طور فوجی عدالت کو بھیجا جاتا ہے جس کے بعد وہ عدالت دوبارہ اس معاملے کی سماعت کرتی ہے۔

انعام رحیم ایڈووکیٹ نے مزید کہا ہے کہ فوجی عدالت کی طرف سے نظرِ ثانی کے بعد سنائے جانے والے فیصلے سے اگر کوئی فریق مطمئن نہ ہو تو وہ آرمی کورٹ آف اپیل سے رجوع کر سکتا ہے۔ آرمی کورٹ آف اپیل بھی اگر یہ اپیل مسترد کر دیتی ہے تو پھر پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اس فیصلے کے خلاف متعلقہ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG