رسائی کے لنکس

logo-print

قیدیوں کی رحم کی اپیلوں کے جائزے کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ


فائل فوٹو

'جسٹس پروجیکٹ پاکستان' کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سزائے موت کے 500 سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کیں۔

پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم نے سزائے موت کے قیدیوں کی رحم کی اپیلوں کو منظور کرنے یا نہ کرنے سے پہلے ان کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید سزائے موت کے قیدیوں سے متعلق ایک رپورٹ کے اجرا کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

'جسٹس پروجیکٹ پاکستان' کی طرف سے بدھ کو اسلام آباد میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سزائے موت کے 500 سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے تنظیم کی ڈائریکٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال بظاہر اس غیر اعلانیہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے کہ سزائے موت کے کسی بھی قیدی کی رحم کی اپیل منظور نہیں کی جائے گی۔

"ہماری رپورٹ کے مطابق دسمبر 2014ء میں جب سے پھانسی دینے کے عمل کو بحال کیا گیا ہے تب سے صدرِ مملکت کی طرف سے رحم کی کوئی اپیل منظور نہیں کی گئی ہے۔ عارضی طور پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا لیکن ابھی تک کسی کو معاف نہیں کیا گیا یا کسی کو سزا کو کم نہیں کیا گیا۔ یعنی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہو۔"

سارہ بلال کے بقول اگرچہ پاکستان کے آئین کے تحت سزائے موت کے قیدیوں کی رحم کی اپیل پر فیصلہ کرنے کا اختیار صرف صدرِ پاکستان کے پاس ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اس سے قبل رحم کی تمام اپیلیوں کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

"اگر آپ ایک کمیٹی بنائیں جس میں قانون و انصاف، انسانی حقوق کی وزارت کے عہدیدار شامل ہوں [اور جس میں] وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر رحم کی تمام اپیلوں کو تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ یہ انصاف کرنے کی پٹیشن ہوتی ہے۔ یہ انصاف کرنے کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسے معاملات کو زیادہ توجہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔"

سارہ بلال نے کہا کہ جن افراد کی رحم کی اپیلیں اب تک مسترد کی گئی ہیں ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے جیلوں میں بند ہیں اور جو جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہو چکے ہیں۔

ان قیدیوں میں 45 سالہ عبدالباسط بھی شامل ہیں جنہیں 2009ء میں قتل کے ایک مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن قید کے دوران وہ تپِ دق کاشکار ہو گئے تھے اور بعد ازاں فالج کے حملے کی وجہ سے ان کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا۔

عبدالباسط کی والدہ نصرت پروین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی جسمانی حالت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صدرِ پاکستان سے اس کے لیے رحم اور معافی کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا، "اس کی حالت بہت خراب ہے۔ اسے مختلف بیماریاں لاحق ہیں اور وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اور جیل میں مشکل میں ہے۔ اسے مناسب خوراک میسر نہیں ہے۔ اگر وہ گھر پر آجائے تو اس کا علاج کر وا سکتے ہیں۔ ہماری اپیل ہے کہ اس پر رحم کیا جائے اور اس کی حالت یہ بتاتی ہے کہ وہ رحم کے قابل ہے۔"

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر مہلک حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد غیر اعلانیہ پانبدی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 487 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی ملکی و غیر ملکی تنظیمیں حکومتِ پاکستان سے اس پابندی کو دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں لیکن حکام کا موقف ہے کہ پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے مخصوص حالات کا سامنا رہا ہے جس کے باعث ملکی قانون کے تحت دی گئی سزاؤں پر عمل درآمد وقت کا تقاضا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG