رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کے دورے کے دوران غزنی پر راکٹ حملے


غزنی کا تاریخی شہر دارالحکومت کابل سے جنوبی افغانستان جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے جس پر گزشتہ ماہ سیکڑوں طالبان جنگجووں نے قبضہ کرلیا تھا۔

افغانستان کے وسطی شہر غزنی پر صدر اشرف غنی کے دورے کے دوران کئی راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

غزنی پولیس کے ترجمان احمد خان سیرات نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ جمعرات کو کم از کم دو راکٹ صوبائی گورنر کی رہائش گاہ سے محض 300 میٹر دور گرے۔

ترجمان کے مطابق راکٹ حملوں کے وقت صدر اشرف غنی گورنر ہاؤس میں مقامی حکام سے ملاقات کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق شہر کے بعض دیگر مقامات پر بھی راکٹ حملوں کی اطلاعات ہیں جن کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ راکٹ حملوں کے بعد شہر میں مختلف مقامات پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

حملے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور پولیس اور امدادی اہلکار متاثرہ مقامات پر موجود ہیں۔

غزنی کا تاریخی شہر دارالحکومت کابل سے جنوبی افغانستان جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے جس پر گزشتہ ماہ سیکڑوں طالبان جنگجووں نے قبضہ کرلیا تھا۔

طالبان شہر کے مرکزی علاقے کے بیشتر حصے پر قابض ہوگئے تھے۔ بعد ازاں امریکی فضائیہ کی مدد سے کی جانے والی افغان فوج کی جوابی کارروائی کے بعد جنگجو شہر سے پسپا ہوگئے تھے۔

غزنی جیسے بڑے شہر پر سیکڑوں جنگجو کے حملے اور اس پر بآسانی قبضے سے افغانستان بھر میں خوف و ہراس بڑھا ہے اور طالبان جنگجووں کی بڑے شہروں پر حملہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق خدشات بھی زور پکڑ گئے ہیں۔

غزنی سے طالبان کو پسپا کیے جانے کے بعد صدر اشرف غنی کا جمعرات کو شہر کا یہ پہلا دورہ ہے جس کے دوران ان کے ہمراہ خاتونِ اول بھی ہیں۔

افغان حکام کے مطابق صدر غنی اپنے دورے کے دوران مقامی حکام کےساتھ شہر میں سکیورٹی کے انتظامات موثر بنانے پر تبادلۂ خیال کریں گے اور مقامی عمائدین کو یقین دلائیں گے کہ صورتِ حال افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG