رسائی کے لنکس

برما میں روہنگا مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، امریکی کانگریس


میانمار فورسز کے ظلم وستم سے بچنے کے لیے لاکھوں روہنگا مسلمان دشوار گذار راستوں سے بنگلہ دیش داخل ہو چکے ہیں۔ فائل فوٹو

بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو دو جماعتی حمایت حاصل ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں لگ بھگ چھ لاکھ پناہ گزینوں کی مدد کی کوششوں میں رکاوٹ بنی ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان اس ہفتے برما کی مسلم اقلیت، روہنگا کی نسلی تطہیر کی مذمت سے متعلق ایک قرار داد پر ووٹنگ کرے گی۔ امریکی کانگریس اس بحران کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ایک امریکی قانون ساز ول ہڑڈ نے روہنگا کے ہزاروں لوگوں کے انخلا، ان پر جنسی حملوں اور قتل کے مصائب کو بیان کرنے کے لیے صرف ایک لفظ استعمال کیا اور یہ لفظ تھا قتل عام۔

ایوان کی خارجہ أمور کی کمیٹی کے سر براہ ایڈ رائس نے اس انسانی سانحے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں اپنے گھروں سے نکالے جانے والے روہنگا ا اقلیت کے چھ لاکھ افراد کو سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش جانا پڑا۔ سینکڑوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ کم از کم دو سو دیہات جلا کر خاکستر کیےجا چکے ہیں۔ بنگلہ دیش سے ملحق برما کی سرحد کے اندر بارودی سرنگیں نصب کی جا چکی ہیں جو محفوظ پناہ گا ہ کے متلاشی پناہ گزینوں کو اپا ہج بنا رہی ہیں ۔ روہنگا کے خلاف جنسی حملوں اور ہر قسم کے تشدد کے ارتکاب کے متعلق رپورٹس مل رہی ہیں۔

یہ ایک ایسا سانحه ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔

ایوان کی خارجہ أمور کی کمیٹی کے چیئر مین ایڈ رائس کہتے ہیں کہ یہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے اور قومی سلامتی کا ایک مسئلہ ہے، جب دنیا کے اس حصے میں انتہا پسندی اور عدم استحكام بڑھ رہا ہو تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو دو جماعتی حمایت حاصل ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں لگ بھگ چھ لاکھ پناہ گزینوں کی مدد کی کوششوں میں رکاوٹ بنی ہیں۔

خارجہ أمور سے متعلق ایوان کے ڈیمو کریٹ سربراہ ایلیٹ اینجل کا کہنا تھا کہ اس سال انتظامیہ جن پناہ گزینوں کو امریکہ آنے کی اجازت دے گی، یہ تعداد اس سے دس گنا زیادہ ہے۔ اسی انتظامیہ نے پناہ گزینوں کے تاریخ کے اس بد ترین بحران کے عین دوران نقل مکانی پر ایک عالمی معاہدے سے متعلق اقوام متحدہ کی کوشش میں امریکی شرکت کا خاتمہ کیا۔ تو اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہمیں شرم آنی چاہیے، ہمیں مزید اقدام کرنے چاہیں۔

وہ اگلا قدم کیا ہو گا، ایوان اور سینیٹ میں جو بل التو میں پڑے ہیں وہ برما کی فوج پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کریں گے۔

ایوان کے ڈیمو کریٹ رکن جو کرولی کہتے ہیں کہ امریکہ یقینی طور پر دنیا کا ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہم کر سکتے ہیں اور وہ ہمیں کرنا چاہیں ۔ اور برما میں مظالم کے قصورواروں کے خلاف پابندیوں کا نفاذ ایک ایسا اقدام ہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔

اور دوسرا اقدام ہو گا پناہ گزینوں کو امداد کی فراہمی ۔ ایوان کے ری پبلکن رکن سٹیو شیباٹ کہتے ہیں کہ یہاں ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو بے گھر ہو چکے ہیں اور جو عمومی طور پر بنگلہ دیش جا چکے ہیں، برما واپس جانے، اپنے گھروں کو واپس جانے میں مدد کریں اگرچہ ان میں سے بہت سے گھر برما کی فوج کے ہاتھوں جلا کر خاکستر کیے جا چکے ہیں ۔ اس لیے بہت سی اقتصادی ترقی ضروری ہو گی۔

اور اب جب کہ کانگریس اس بارے میں آگاہ ہے کہ مدد کی ہنگامی طور پر ضرورت ہے ۔ ایوان کے ری پبلکن رکن سٹیو شیباٹ کہتے ہیں کہ یہاں بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے لیے آپ ایک لمبے عرصے تک کا انتظار برداشت نہیں کر سکتے۔

اب جب کہ 2017 کے گنتی بھر دن باقی رہ گئے ہیں ، اور قیادت حکو مت کو فنڈز فراہم کرنے کے ایک معاہدے پر کام میں مصروف ہے ، امکان یہ ہی ہے کہ قانون ساز اس بل پر اگلے سال سے پہلے ووٹنگ نہیں کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG