رسائی کے لنکس

روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے میانمار اور بنگلہ دیش میں معاہدہ


مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی وطن واپسی دو ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی۔ میانمار کی وزارتِ محنت، امیگریشن اور آبادی کے مستقل سکریٹری، مِنٹ کئینگ نے بتایا ہے کہ جمعے کے روز مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، لیکن مزید تفصیل نہیں بتائی

میانمار اور بنگلہ دیش نے ایک سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت بنگلہ دیش بھاگ نکلنے والے لاکھوں روہنگیا وطن واپس لوٹیں گے، جو میانمار کی ریاستِ رخائن میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں بے دخل ہوئے تھے۔ یہ بات دونوں ملکوں کے اہل کاروں نے بتائی ہے۔

میانمار کی وزارتِ محنت، امیگریشن اور آبادی کے مستقل سکریٹری، مِنٹ کئینگ نے بتایا ہے کہ جمعے کے روز مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، لیکن مزید تفصیل نہیں بتائی۔

چھ لاکھ سے زائد افراد سرحد پار کرکے بنگلہ دیش پہنچے ہیں اور کیمپوں میں رہتے ہیں۔ یادداشت کی مفاہمت میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی وطن واپسی دو ماہ کے اندر اندر شروع ہوجائے گی۔

چھ لاکھ سے زائد افراد سرحد پار کرکے بنگلہ دیش پہنچے جو اس وقت کیمپوں میں رہتے ہیں۔ مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی وطن واپسی دو ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی۔

اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ میانمار کے دارالحکومت کے ایک مقام، نیپیتا میں مذاکرات کے نتیجے میں سمجھوتا طے پایا جس میں میانمار کے ریاستی مشیر آنگ سان سوچی اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ابولحسن محمود علی نے دستخط کیے۔

فرانسسی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق، ’’یہ ایک ابتدائی قدم ہے۔ (وہ روہنگیا) کو واپس لیں گے۔ اب ہمیں اس معاملے کو آگے بڑھانا ہوگا‘‘۔

یہ پیش رفت ایسے میں سامنے آئی ہے جس سے ایک ہی روز قبل، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ ریاستِ رخائن میں جاری تشدد کی کارروائیوں میں مسلمان روہنگیا کو نشانہ بنایا گیا، جو نسل کشی کے مترادف ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG