رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش کے متعدد روہنگا مہاجرین کیمپوں ہی میں رہتے ہیں، جو اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے اجرت کے عوض کام کے منتظر رہتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے مہاجر کیمپوں کے علاقے میں ہی اپنا نیا کاروبار شروع کیا ہے۔

جب وہ بنگلہ دیش وارد ہوئے، اُن کے تَن پر کپڑے ہی اُن کی واحد ملکیت تھے، جب ظالمانہ اور فوری فوجی کارروائی کے نتیجے میں وہ گھروں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

ایسے میں جب امدادی گروپ اُنھیں کھانے اور چھت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں، آنے والے نئے لوگ اضافی آمدن کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ وہ مہاجر کیمپوں کے علاقے میں نئے کاروبار کا آغاز کر رہے ہیں۔

چھالیہ کی دکان کے لیے، 12 برس کے عبدالکریم نے 75 سینٹ کا قرضہ لیا۔ اور وہ روزانہ اس سے دوگنا بنا لیتا ہے، جس سے وہ آٹھ ارکان پر مشتمل اپنے خاندان کے لیے اضافی کھانا خریدتا ہے۔

بقول اُن کے، ’’ہم کیمپ میں ہی ٹھیک ہیں، جب تک ہمیں چاول فراہم کیے جاتے رہیں۔ ہمارے پاس کھانے کی تقسیم کا کوئی کارڈ نہیں ہے۔ اگر ہمیں کھانے کی تقسیم کا کارڈ مل جائے، تو اِس کی مدد سے ہمیں چاول مل جائیں گے؛ لیکن، ہمارے پاس سالن کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ میں چھالیہ بیچ رہا ہوں‘‘۔

دس کیمپوں میں 850000 سے زائد افراد ہیں جن کی غذائی ضروریات پوری کرنی ہوتی ہیں، یہ ضرورت پوری کرنے کے لیے چند مقامی کاروبار تگ و دو کر رہے ہیں۔

کئی غیر سرکاری تنظیمیں کھانا تیار کرنے والے مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں، تاکہ مہاجرین کو کم داموں پر صحت بخش سبزیاں میسر آئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG