رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: اجتماعی قبر سے یزیدیوں کی 30 لاشیں برآمد


عراقی گاؤں کوشو کے قریب ایک اجتماعی قبر سے نعشیں نکالی جا رہی ہیں۔ تصویر میں اقوام متحدہ کے کارکن اور مقامی افراد دکھائی دے رہے ہیں۔ 15 مارچ 2019

حالیہ ہفتوں کے دوران اقوام متحدہ اور عراق کے کارکنوں نے قبر کشائی کی جہاں سے 30 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ یہ یزیدی تھے جنھیں داعش نے ہلاک کر کے اجتماعی قبر میں ڈال دیا تھا۔ علاقے میں اسی قسم کی درجنوں اجتماعی قبریں ہیں۔

یزیدی ایک نسلی اور مذہبی اقلیت ہے، اور داعش کے ارکان اِنہیں اپنی زبان اور مذہب ترک کرنے پر مجبور کیا کرتے تھے۔

سال 2014 کے دوران شمالی عراق میں داعش کے شدت پسندوں نے یزیدی نسل کے لوگوں پر ظالمانہ حملہ کیا۔

زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ ہلاک کیے جانے سے پہلے دہشت گرد اُنہی سے اجتماعی قبریں کھدواتے تھے، اور قتل کے بعد اُنھیں اُنہی گڑھوں میں پھینک دیا جاتا تھا۔ خواتین اور بچوں کو پکڑ کر اُن سے جبری مشقت لی جاتی تھی یا پھر انہیں جنسی غلام بنا لیا جاتا تھا۔

ان میں 12 سالہ آسیہ بھی شامل ہے جنہیں پانچ سال قبل اغوا کیا گیا تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’ وہ دوپہر کے وقت آئے اور آتے ہی ہمیں سامان باندھنے کے لیے کہا۔ ہمارے گاؤں کا نام کوشو ہے۔ اجتماعی قبر اس سے چند منٹ کی مسافت پر تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ہمیں پہاڑوں کی جانب لے جائیں گے جہاں ہمیں آزاد کر دیا جائے گا۔ وہ ہمیں ایک اسکول کی عمارت میں لے گئے۔ پہلے اُنھوں نے ہمارے زیورات اتارے، اور موبائل فون اور ہمارے شناختی کارڈ چھین لیے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ایک اجتماعی قبر سے جن 30 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، وہ اسی گاؤں کے یزیدی تھے جنھیں داعش نے ہلاک کرنے کے بعد ان گڑھوں میں پھینک دیا تھا۔ علاقے میں اسی قسم کی درجنوں اجتماعی قبریں موجود ہیں۔

داعش نے علاقے پر اپنے قبضے کے عرصے میں ہزاروں افراد کو قتل کیا، جب کہ ہزاروں ابھی تک لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان واقعات کو ممکنہ قتل عام کا نام دیا ہے۔

آسیہ کو دو ہفتے قبل شدت پسندوں کی حراست سے اُس وقت رہائی نصیب ہوئی جب شام کے شہر باغوز میں شدید لڑائی کے بعد داعش کے زیر قبضہ علاقہ آزاد کرایا گیا۔

شدت پسندوں نے وہاں لوگوں پر ظلم کے کیا پہاڑ گرائے، اب یہ داستانیں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’وہ ظالم تھے۔ اُنھوں نے ہمیں بھوکا پیاسا رکھا، مارا پیٹا، ہاتھ کاٹے گئے اور اذیتں دی گئیں‘‘۔

یزیدی ایک نسلی اور مذہبی اقلیت ہے، اور داعش کے شدت پسند انہیں اپنی زبان اور مذہب ترک کرنے پر مجبور کرتے تھے۔

آسیہ نے مزید بتایا کہ ’’اُنھوں نے مجھے کہا کہ اگر میں اُن کی طرح عبادت نہیں کروں گی، تو مجھے کھانا اور پانی نہیں ملے گا۔ میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اُن کے سامنے نماز پڑھوں‘‘۔

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں جرائم اور قتل عام کی کارروائیاں ان کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں۔ جس سے مزید یزیدیوں کو بازیاب کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یزیدی عراقی حکومت کو موردالزام ٹہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنھیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا، اور نہ ہی اس بحران کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت کی گئی۔ عراق کے اندازاً چار لاکھ یزیدی برسوں سے دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی سرگرم یزیدی کارکن، نادیہ مراد کو بھی کوشو سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ بچی تھیں۔ داعش نے اُنھیں جسم فروشی پر لگا دیا۔ وہ کسی طرح ان کے چنگل سے بھاگ نکلیں اور بعد ازاں اُنھیں ’امن کا نوبیل پرائز‘ دیا گیا۔

سوگوار یزیدیوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ قتل عام، یہ اجتماعی قبریں اور یہ بربادی داعش کے بدنما اور ظالمانہ نظریے کا نتیجہ ہے۔ ہمارے حقوق چھینے گئے ہیں اور ہمیں دھوکہ دیا گیا‘‘۔

اقوام متحدہ کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مقتولوں کی شناخت کے لیے انسانی باقیات کے نمونے بغداد بھیج دیے گئے ہیں، جب کہ اجتماعی قبریں کھودنے کا باقی ماندہ کام مئی تک جاری رہے گا۔ توقع ہے کہ آخرکار تمام نعشیں نکال کر انہیں ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ اُن کی مناسب طریقے سے تدفین کی جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG