رسائی کے لنکس

logo-print

حسن روحانی فرانس کے منصوبے سے کسی حد تک متفق


ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے فرانس کی جانب سے مجوزہ دستاویزی منصوبہ کافی حد تک ایران کے لیے قابل قبول ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ فرانس کی جانب سے مجوزہ دستاویز کی نوک پلک مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول، خاص طور پر ان جملوں میں ترمیم کی ضرورت ہے جس میں ایران کو جوہری پروگرام مکمل طور پر بند کرنے، علاقائی سالمیت اور آبی گزرگاہوں کا تحفظ یقینی بنانے کا پابند کیا گیا ہے۔

ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ اُن کے لیے یہ قابل قبول نہیں کہ ایک جانب امریکہ کے صدر یہ بیان دیں کہ وہ ایران پر سخت پابندیاں لگا رہے ہیں اور دوسری جانب یورپی ممالک اُنہیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

حسن روحانی نے کابینہ ارکان کو بتایا کہ انہوں نے یورپی ممالک کے دوستوں سے کہا ہے کہ کیا ایران صدر ٹرمپ کی بات کو اہمیت دے یا یورپی ممالک کی یقین دہانیوں کو؟ لیکن اُنہیں تاحال واضح جواب نہیں ملا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یورپی اور برطانوی حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یورپی اور برطانوی حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

حسن روحانی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ ایک اور موقع پر کہا کہ وہ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں۔

حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر پابندیوں سے متعلق بیانات مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کوشاں ہیں۔

یہ تینوں ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے بھی فریق ہیں۔

گزشتہ سال امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ یہ جوہری معاہدہ ناقص ہے اور ایران اس کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔

ایران نے بھی جوہری معاہدے سے الگ ہو کر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ مقصد کے حصول کے لیے جوہری معاہدے کے وعدوں سے پیچھے ہٹتے رہیں گے۔ (فائل فوٹو)
ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ مقصد کے حصول کے لیے جوہری معاہدے کے وعدوں سے پیچھے ہٹتے رہیں گے۔ (فائل فوٹو)

ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کا بھی بدھ کو ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں اُن کا کہنا ہے کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے میں طے شدہ شرائط سے اس وقت تک پیچھے ہٹتا رہے گا جب تک اسے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔

پاسدران انقلاب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول تک جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹتے رہیں گے۔"

امریکی حکام کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پابندیاں مزید سخت کرنے کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا اور اسے مزید سخت شرائط کے حامل کسی نئے جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔

لیکن امریکی پابندیوں کے ردِ عمل میں ایران بتدریج جوہری معاہدے میں طے کی جانے والی شرائط کی خلاف ورزیاں بڑھا رہا ہے۔

تہران حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر معاہدے میں شریک یورپی طاقتوں نے ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کردار ادا نہ کیا تو وہ جوہری معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد روک دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG