رسائی کے لنکس

'جے آئی ٹی' سے متعلق حکمران جماعت کے تحفظات


حیسن نواز (درمیان) تحقیقاتی ٹیم میں پیش ہونے کے لیے آ رہے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت وزیر اعظم کے بچوں کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 'جے آئی ٹی' کے سامنے جمعے کو پانچویں مرتبہ پیش ہوئے۔

جیسے جیسے 'جے آئی ٹی ' کی تحقیقات میں پیش رفت ہو رہی ہے، حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے بعض راہنماؤں اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر الفاظ کی جنگ میں بھی شدت آرہی ہے۔

حسین نواز نے جمعے کو 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس کسی کے خلاف بھی ثبوت ہوں تو کارروائی ہونے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ محض شکوک و شبہات پر کوئی بھی عدالت یا حکومت کارروائی نہیں کرتی۔

دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی آصف کرمانی نے جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'جے آٹی ٹی' کے دو ارکان سے متعلق تحفظات کے باوجود وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کرتے رہیں گے۔

حزب مخالف کے بعض رہنماؤں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی جماعت کے راہنماؤں کے 'جے آئی ٹی' کے خلاف بیانات ایک سیاسی اور قانونی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور معروف وکیل علی ظفر نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ،"ان کو متنازع بنانے کا مقصد ایک ہی نظر ہی آتا ہے۔ جب آپ دیکھ رہے ہوں کہ تحقیقات آپ کے خلاف جارہی ہیں تو عموماً تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے خلاف الزام عائد کیے جاتے ہیں تاکہ کل کو آپ یہ کہہ سکیں کہ دیکھیں ہم نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ یہ غیر جانبدار نہیں۔"

علی ظفر نے کہا کہ جے آئی ٹی کا دائرہ کار صرف سپریم کورٹ کے حکم کے تحت نواز شریف کے بچوں کے اثاثوں کی 'منی ٹریل' کی تحقیقات کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غیر معمولی حالات کے تحت اس معاملے کی سماعت کی اور اس کے بعد اس کی مزید چھان بین کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا۔

"جے آئی ٹی نے یہ فیصلہ نہیں کرنا ہے کہ سزا کیا دینی ہے۔ جے آئی ٹی نے صرف ایک رپورٹ سپریم کورٹ کو دینی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان اس رپورٹ کو دیکھیں گے۔ اس رپورٹ پر کسی کو کوئی اعتراضات ہیں تو وہ سنیں گے اور اس کے بعد اس پر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے آگے کیا کرنا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقاتی ٹیم اسی طرح تحقیقات کر رہی ہے جیسے پولیس ایسے معاملات کی تحقیقات کرتی ہے۔

رواں ہفتے عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کے کام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ اپنا کام مقررہ 60 روز میں مکمل کرے کیوں کہ تحقیقات کے لیے مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG