رسائی کے لنکس

logo-print

روس نے لیبیا کے بحران کے حل کیلیے ثالثی کی پیشکش کردی


روس نے لیبیا کے بحران کے حل کیلیے ثالثی کی پیشکش کردی

روس نے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے حکمران معمر قذافی کی اقتدار سے بے دخلی کے معاملے پر عالمی برادری اور لیبیا کی حکومت کے مابین ثالثی کیلیے تیار ہے۔

فرانسیسی سیاحتی شہر ڈوویلے میں جاری دنیا کی آٹھ بڑی معیشتوں کی نمائندہ تنظیم 'جی-8' کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے صدر دمیتری میدویدیف نے واضح کیا کہ مصالحتی کردار ادا کرنے کے باوجود روس کی جانب سے معمر قذافی کو اپنے ہاں سیاسی پناہ فراہم کرنے کی پیشکش نہیں کی جائے گی۔

اپنے خطاب میں روسی صدر نے لیبیا کے حکمران سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد انہیں دنیا کےکچھ ممالک میں سیاسی پناہ مل سکتی ہے۔

جمعہ کے روز کیے گئے اپنے خطاب میں روسی صدر نے اپنا خصوصی سفارتی نمائندہ لیبیائی حزبِ مخالف کی عبوری حکومت کے مرکز بن غازی بھیجنے کا بھی اعلان کیا۔

اس سے قبل روس کے نائب وزیرِخارجہ سرجئی ریاب کوف نے کہا تھا کہ معمر قذافی اپنے اقتدار کا قانونی جواز کھو بیٹھے ہیں اور انہیں اقتدار چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی غرض سے کسی منصوبے کی تیاری اب ضروری ہوگئی ہے۔

روس کی جانب سے اس سے قبل معمر قذافی اور ان کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے مابین صلح کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

دریں اثناء لیبیا کی سرکاری افواج نے ملک کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ کا قبضہ باغیوں سے چھیننے کیلیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے کہا ہے کہ حکومت کی حامی افواج اور باغیوں کے درمیان مصراتہ کے مغربی نواحی علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔

ادھر فرانسیسی خبررساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے نیٹو کے ایک فوجی کمانڈر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قذافی کی حامی افواج نے شہر کے گرد بارودی سرنگیں بچھادی ہیں۔

لیبیائی افواج کے خلاف نیٹو کی فضائی کاروائی بھی جاری ہے اور جمعرات کی شب بھی نیٹو طیاروں کی جانب سے دارالحکومت طرابلس پر فضائی حملہ کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے دوران دارالحکومت میں واقع معمر قذافی کے رہائشی کمپائونڈ کے نزدیک بھی کئی دھماکے سنے گئے تاہم نیٹو کی جانب سے نشانہ بنائے گئے اہداف کی درست نشاندہی تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

XS
SM
MD
LG