رسائی کے لنکس

logo-print

طیارہ حادثہ، حقیقی وجوہات جاننے کی کوشش کی جائے گی: روس


ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ائربس جیٹ لائنز زمین پر گرنے سے قبل فضا میں تقسیم ہوگیا۔ دہشت گرد تنظیم داعش نے طیارہ گرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی، لیکن ائرکرافٹ بلیک باکس، کاکپٹ وائس ریکارڈ اور فلائیٹ کے ڈیٹا ریکارڈر کے ذریعے ہی حتمی معلومات حاصل ہوسکیں گی

روسی حکام نے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والے طیارے کے حادثے کی حقیقی وجوہات جاننے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔

طیارہ حادثے کے بعد پہلی بار عوام کے سامنے آکر روسی صدر ویلادیمیر پوتن نے وعدہ کیا کہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی، اور حقائق تک پہنچا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں معلوم کرنا ہے کہ کیا ہوا تھا، جس کے بعد ہی ہم صحیح سمت میں ردعمل دیں گے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے درجنوں مسافروں کی لاشیں مل چکی ہیں اور مصری حکام نے تلاش کا کام دور تک پھیلا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے، اے پی کا کہنا ہے کہ پہلی 10 لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ مجموعی طور پر 140 لاشیں اور ایک 100 کے قریب لاشوں کے اجزا دو خصوصی روسی طیاروں کے ذریعے سوموار اور منگل کو سنٹ پیٹرسبرگ روانہ کئے گئے۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ائربس جیٹ لائنر زمین پر گرنے سے قبل فضا میں دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، دہشت گرد تنظیم داعش نے طیارہ گرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ لیکن، ائرکرافٹ بلیک باکس، کاکپٹ وائس ریکارڈ اور فلائیٹ کے ڈیٹا ریکارڈر کے ذریعہ ہی حتمی معلومات حاصل ہوسکیں گی۔

روسی ٹرانسپورٹیشن حکام کا کہنا ہے کہ فلائیٹ ریکارڈر کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

بحرانی انتظامات کے روسی سربراہ، الیکسی سمیروف نے ایک نئی بریفنگ میں بتایا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ طیارے کے گرد پورے علاقے تک پھیلا دیا گیا ہے۔

روس نے واقعہ کی تحقیقات میں مصری حکام کو مدد فراہم کرنے کے لئے اپنے 100 ماہرین مصر روانہ کئے ہیں، جبکہ امریکہ نے بھی تحقیقات میں مدد کی پشکش کی ہے۔

سوموار کو کوگالی ماویہ ائرلائن کے ڈپٹی جنرل ڈائریکٹر، الیگزینڈر سیمروف نے کہا کہ جہاز کا فضا میں ٹوٹ جانا ظاہر کرتا ہے کہ اس کی تباہی میں بیرونی طاقت استعمال ہوئی ہے۔

روسی طیارہ مصری سیاحتی مقام شرم الشیخ سے سنیٹ پیٹرس برگ کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ صحرائے سینا پر پرواز کے دوران ہفتے کو زمین پر گرگیا اور جہاز میں سوار تمام 224 مسافر ہلاک ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG