رسائی کے لنکس

ٹرمپ، اردوان ملاقات، شام اور کُردوں کو مسلح کرنے کا معاملہ زیر غور


’وائی پی جی‘ کو امریکی اسلحہ فراہم کرنے کے فیصلے کو اردوان ’’امریکہ کے ساتھ ہمارے حکمت عملی کے حامل تعلقات کےخلاف‘‘ قرار دیتے ہیں۔ لیکن، دورے سے قبل، گذشتہ ہفتے اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے دورے کو ’’ترک امریکہ تعلقات کا نیا آغاز‘‘ خیال کرتے ہیں

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ہفتہ قبل شام کے کُردوں کو اسلحہ دینے کی اجازت دینے کا اقدام کیا جس پر ترکی نے اظہار برہمی کیا تھا، منگل کو صدر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا وائٹ ہاؤس میں خیر مقدم کیا۔

دونوں سربراہان مذاکرات کر رہے ہیں جس دوران تنازع پر دھیان مرتکز رہے گا، ساتھ ہی شام میں پھیلے ہوئے تنازع پر بات چیت متوقع ہے۔

امریکہ سمجھتا ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی ہو یا شدت پسندوں کو رقہ کے فی الواقع دارالخلافہ سے نکالنا، کُرد فورس، ’وائی پی جی‘ ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن، ترکی سمجھتا ہے کہ ’وائی پی جی‘ دہشت گردوں کا دھڑا ہے، چونکہ اُن کے ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کے ساتھ تعلقات ہیں، جو ترکی کے اندر تین دہائیوں سے بغاوت میں ملوث ہیں۔

اردوان وائی پی جی کو امریکی اسلحہ فراہم کرنے کے فیصلے کو ’’امریکہ کے ساتھ ہمارے حکمت عملی کے حامل تعلقات کےخلاف‘‘ قرار دیتے ہیں۔

لیکن، دورے سے قبل، گذشتہ ہفتے اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے دورے کو ’’ترک امریکہ تعلقات کا نیا آغاز‘‘ خیال کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG