رسائی کے لنکس

روس: پیوٹن مخالف رہنما ناولنی کو 30 دن قید کی سزا


الیگزی ناولنی عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں

ناولنی نے صدر پیوٹن کے مقابلے پر آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

روس کی ایک عدالت نے ماسکو میں بغیر اجازت جلوس نکالنے کی کوشش پر حزبِ اختلاف کے رہنما الیگزی ناولنی کو 30 دن کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔

ناولنی کو ان کے سیکڑوں دیگر حامیوں سمیت پیر کو ملک بھر میں بدعنوانی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

ان مظاہروں کا بظاہر نشانہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور ان کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران تھے جنہیں ان کے مخالفین بدعنوان قرار دیتے ہیں۔

ناولنی نے صدر پیوٹن کے مقابلے پر آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

انہیں پولیس نے پیر کو ماسکو میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر سے اس وقت حراست میں لیا جب وہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔

پولیس نے پیر کو ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ سمیت روس کے کئی دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے سیکڑوں شرکا کوبھی گرفتار کیا ہے۔

امریکہ نے روس میں ہونے والی ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور روسی حکومت سے تمام مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکام نے صرف ماسکو میں چھ سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جب کہ سینٹ پیٹرز برگ میں 300 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس نے ماسکو میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر مرچوں کا اسپرے کیا جب کہ پولیس کو مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔

گرفتاریوں کے دوران بعض مظاہرین نے "شیم شیم" اور "پیوٹن چور ہے" کےنعرے بھی لگائے۔

حکام نے مظاہرین کو ماسکو کے مرکزی علاقے میں احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی لیکن الیگزی ناولنی نے اتوار کی شب اپنا احتجاج کریملن جانے والی مرکزی شاہراہ پر منتقل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

ماسکو کی شہری حکومت نے مظاہرے کے مقام کی تبدیلی کو "اشتعال انگیزی" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بغیر اجازت مظاہرہ کرنے والوں گرفتار کرلیا جائے گا۔

روس میں بدعنوانی کے خلاف ناولنی کی بنائی گئی ویڈیوز خاصی مقبول ہیں جن میں وہ صدر پیوٹن اور ان کےقریبی مشیروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG