رسائی کے لنکس

ماسکو: ناولنی اور درجنوں حکومت مخالف مظاہرین گرفتار


ناولنی نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں پوٹن کے مدِ مقابل کھڑے ہوں گے۔ اُنھیں ماسکو کے باہر اُن کے گھر سے حراست میں لیا گیا، جس کے کچھ ہی دیر بعد، مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ اور دیگر شہر شامل ہیں

روسی پولیس نے پیر کے روز حزب مخالف کے راہنما، الیگزی ناولنی اور ملک بھر سے تعلق رکھنے والے اُن کے درجنوں حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جو بدعنوانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے والے تھے، جس کا مقصد روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور اُن کے اتحادیوں کو ہدفِ تنقید بنانا تھا۔

ناولنی نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں پوٹن کے مدِ مقابل کھڑے ہوں گے۔ اُنھیں ماسکو کے باہر اُن کے گھر سے حراست میں لیا گیا، جس کے کچھ ہی دیر بعد، مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ اور دیگر شہر شامل ہیں۔

اخباری نمائندوں نے اطلاع دی ہے کہ اُنھوں نے احتجاج کرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار ہوتے دیکھا ہے، جس میں سے ایک نیم سرکاری تنظیم، جو مظاہروں پر نظر رکھتی ہے، بتایا ہے کہ تقریباً 120 کو دارالحکومت سے گرفتار کیا گیا، جب کہ 130 سینٹ پیٹرزبرگ میں گرفتار ہوئے۔ سائبیریا کے شہر نووسبرک میں 3000 افراد نے مظاہرہ کیا، جب کہ دیگر ریلیاں صحت افزا جنوبی شہر، سوچی، کراسنویارک، کازان، تمسک اور ولادیواسٹک میں نکالی گئیں۔

ماسکو میں پولیس نے مظاہرین پر مرچوں کا اسپرے کیا۔

حکام نے وسطی ماسکو کے ایک مقام پر احتجاج کی اجازت دی تھی، لیکن ناولنی نے اتوار کی رات گئے کریملن کی جانب جاتی ہوئی بڑی سڑک کا چناؤ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اہل کارون نے اصل مقام پر اسٹیج کی تعمیر اور ساؤنڈ سسٹم پر قبضہ کر لیا تھا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ حکام نے اُنھیں ساؤنڈ اور وڈیو سسٹم واپس کرنے سے انکار کیا ہے۔

ماسکو سٹی ہال نے احتجاج کے مقام کی تبدیلی کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مظاہرے امن و امان کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں، جس کے باعث لوگوں کو زیر حراست لیا جاتا ہے۔

ناولنی کے مشیروں نے ماسکو اسٹوڈیو سے احتجاج کے بارے میں نشریات جاری رکھی تھیں۔ لیکن، حکام نے عمارت کی بجلی کی رسد کاٹ دی، ایسے میں جب پولیس 41 برس کے ناولنی کو حراست میں لے رہی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG