رسائی کے لنکس

روس کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، 'تاس' نے اتوار کے روز خبر دی ہے کہ یہ گرفتاریاں اُس وقت کی گئیں جب احتجاج کرنے والوں نے ماسکو کے دو عام چوکوں سے غیر قانونی مارچ کا رُخ کریملن کی جانب کیا

روسی پولیس نے اتوار کے روز ماسکو میں احتجاج کرنے والے تقریباً دو درجن مظاہرین کو گرفتار کر لیا، جس سے ایک ہی ہفتہ قبل صدر ولادیمیر پیوٹن کے سرکردہ ناقد کی جانب سے منعقد کردہ ایک بڑی سطح کی ریلی کے دوران 1000 سے زائد مظاہرین کو زیر حراست لیا گیا تھا۔

روس کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، 'تاس' نے اتوار کے روز خبر دی ہے کہ یہ گرفتاریاں اُس وقت کی گئیں جب احتجاج کرنے والوں نے ماسکو کے دو عام چوکوں سے غیر قانونی مارچ کا رُخ کریملن کی جانب کیا۔

پولیس نے پُشکن اسکوائر پر ناکہ لگایا ہوا تھا، جہاں روایتی طور پر مظاہرے ہوتے ہیں۔

حکام نے متعدد انٹرنیٹ سائٹ پر رسائی بھی بند کر رکھی تھی، جس کا سبب بتاتے ہوئے حکومت کا کہنا تھا کہ اِن سے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں یا قریب ہونے والے حکومت مخالف غیر قانونی احتجاج کی شہ مل رہی تھی۔

ابھی یہ واضح نہیں آیا یہ احتجاجی مظاہرے کس نے منعقد کیے۔ کریملن کے نامور ناقد، الیگزی نولنی نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ بدعنوانی کےخلاف مظاہروں میں اُن کے علاوہ دیگر سینکڑوں افراد نے وزیر اعظم دمتری مدویدیو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اُنھیں گذشتہ ہفتے حراست میں لیا گیا تھا۔

روس کے کچھ ناقدین پیوٹن کو بدعنوان حکومت کے نگران ہونے کا الزام لگاتے ہیں، جس نے اپنے پسندیدہ احباب اور ساتھیوں کو موٹی رقوم دی ہوئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG