رسائی کے لنکس

logo-print

جدید روسی میزائل کی ایران کو فروخت پر امریکہ کا اظہار تشویش


وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ ’روس کو پتا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے کو کس سنجیدگی سے لیتا ہے‘

اوباما انتظامیہ نے پیر کے روز روس کی جانب سےایران کو جدید ترین ایس 300 فضائی دفاعی نظاموں کی ممکنہ فروخت کی رپورٹوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے قبل صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسلامی جمہوریہ کو جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی فراہمی پر سے پابندی اٹھانے کا اعلان کیا۔

وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے اس سے قبل روس کی جانب سے ایران کو ایس 300 کی ممکنہ فروخت کی مخالفت کی تھی، جب کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے اپنی حالیہ گفتگو میں ایک بار پھر اپنی تشویش کا معاملہ اٹھایا۔

ارنیسٹ نے کہا ہے کہ روس کو پتا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے کو کس سنجیدگی سے لیتا ہے۔

اس سے پہلے، پیر کو روس کے ایک ویب سائٹ نے یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ مسٹر پیوٹن نے ایک سرکاری حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں، جس کے ذریعے ایس 300 میزائل ایران کو فروخت کرنے پر سے پابندی اٹھ گئی ہے۔

ماسکو نےسنہ 2007 میں ایران کے ساتھ 80 کروڑ ڈالر مالیت کے ایس 300 میزائل کی فراہمی کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔
تاہم، تین سال بعد، روس نے اس معاہدے کو اُس وقت منجمد کردیا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف تعزیرات عائد کی تھیں۔

امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، میری ہارف نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایس 300 میزائل کی ایران کو منتقلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی موجودہ تعزیرات کی خلاف ورزی نہیں۔ تاہم، امریکہ سمجھتا ہے کہ خطے میں جاری حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے، ’اس کی فروخت کا یہ وقت نہیں‘۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ یہ نہیں سمجھتا کہ اسلحے کی اس منتقلی کے نتیجے میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں شامل چھ عالمی طاقتوں کے اتحاد پر کوئی اثر پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG