رسائی کے لنکس

logo-print

لبرل ووٹر امریکی سپریم کورٹ کی خاتون جج کی صحت کے لئے فکر مند کیوں؟


جسٹس روتھ بیڈر گنسبرگ

امریکی سپریم کورٹ کی 87 سالہ خاتون جج جسٹس روتھ بیڈر گنسبرگ اس وقت امریکی سپریم کورٹ کے نو ججوں میں سب سے عمر رسیدہ جج ہیں، جو سب سے زیادہ مدت سے اپنے عہدے پر فائز ہیں۔ انہیں آزادی پسند سوچ کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔

امریکہ میں لبرل سوچ کا حامل طبقہ انہیں بےحد اہمیت دیتا ہے۔

چند روز قبل ان کے مداحوں کو اس وقت سخت پریشانی ہوئی، جب انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا کینسر ایک بار پھر عود آیا ہے۔ وہ پہلے بھی کینسر سے صحت یاب ہو چکی ہیں۔

گو کہ جسٹس گنسبرگ نے ریٹائر ہونے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا، آزاد ی پسند سوچ کے امریکی حامیوں کو خدشہ ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ میں ان کا عہدہ خالی ہوا تو صدر ٹرمپ ان کی جگہ کسی قدامت پسند سوچ کے حامی جج کو تعینات کریں گے، جس سے امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند خیالات رکھنے والوں کی اکثریت ہو جائے گی۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ایک تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوٹ سے منسلک اور امریکی عدلیہ کی تحقیقی شاخ فیڈرل جوڈیشل سینٹر کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر رسل ویلر کہتے ہیں کہ ہر کوئی روزانہ اپنا فون چیک کرتا رہتا ہے کہ جسٹس گنسبرگ کی صحت کی اطلاع ملتی رہے۔

پانچ قدامت پسند اور چار آزادی پسند ججوں پر مشتمل امریکہ کی سپریم کورٹ امریکی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کا احاطہ کرتی ہے۔ دو قدامت پسند ججوں، جسٹس نیل گورسچ اور جسٹس بریٹ کیوانو کی تعیناتی صدر ٹرمپ نے خود کی تھی۔ گو کہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف متعدد فیصلے سنائے ہیں، امریکی سپریم کورٹ کا نظریاتی جھکاو قدامت پسندی کی طرف مائل ہونے کا تاثر ہی دیتا ہے۔

جسٹس گنسبرگ سپریم کورٹ کی واحد جج نہیں ہیں جن کے آئندہ برسوں میں ریٹائر ہونے کا امکان ہے۔ صدر کلنٹن کے دور میں تعینات ہونے والے ایک اور لبرل جج جسٹس سٹیفن بریئر بھی 81 سال کے ہو چکے ہیں۔ نومبر کے صدارتی انتخابات میں جو بھی امیدوار امریکی صدارت کا منصب سنبھالے گا، ماہرین کے مطابق اس کے پاس ان دونوں ججوں کی جگہ نئی تعیناتیاں کرنے کا راستہ موجود ہوگا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ میں آگے چل کر کم از کم ایک اور ممکنہ طور پر زیادہ آسامیاں بھی خالی ہو سکتی ہیں۔

ایسے میں مزید آزادیوں کے حامی امریکی، جن کے نزدیک اسقاطِ حمل کا حق، صحت سے متعلق سرکاری پروگرام، ووٹروں تک رسائی اور دیگر امور اہم ہیں، اس کوشش میں ہیں کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کو سپریم کورٹ کے مستقبل پر ایک ریفرینڈم بنادیا جائے۔

کچھ آزادی پسند امریکی عدالت میں ججوں کی تعداد بڑھانے کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں جب امریکی معاشرہ سخت تقسیم کا شکار ہے ، ایسا ہونے کا امکان کم ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں، جو کہتے ہیں کہ سب سے پہلا کام تو آئندہ انتخابات میں صدر ٹرمپ کو ہرانا ہے، تاکہ وہ قدامت پسند ججوں کی تقرری نہ کر سکیں۔

ترقی پسند گروپوں کے ایک اتحاد نے اسی ماہ اپنے نظریات کے مطابق، سپریم کورٹ کی حمایت میں ایک پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے اور ان کا نعرہ ہے کہ سپریم کورٹ کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔ اس پروجیکٹ کا نام سپریم کورٹ ووٹر رکھا گیا ہے۔ اس اتحاد نے ریاست ایری زونا، مشی گن، شمالی کیرولائینا، پینسلوینیا اور وسکانسن جیسی دو ملین ڈالر کے اشتہارات خریدے ہیں۔ ان ریاستوں میں صدارتی انتخاب میں کانٹے کا مقابلہ ہونے کی توقع ہے اور یہاں کے نتائج صدر کے انتخاب میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

پروجیکٹ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بریٹ کیوانو جیسے انتہائی قدامت پسند ججوں کی تعیناتی سے سپریم کورٹ کو اغوا کر لیا ہے اور ٹرمپ کے جانے کے بعد بھی یہ جج عشروں تک کام کرتے رہیں گے۔

صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کی ترجمان، کورٹنی پاریلا نے صدر کی جانب سے کی جانے والی تعیناتیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے مضبوط اور قدامت پسند فیڈرل ججوں کی تعیناتیاں کی ہیں، اور حال ہی میں ان کی جانب سے کی جانے والی عدالتی نامزدگی کی سینیٹ سے منظوری ہوئی ہے۔

تاہم اگر ڈیمو کریٹک پارٹی کے 77 سالہ امیدوار جو بائیڈن وائٹ ہاوس پہنچ گئے، تو پھر نہ صرف وہ امریکی سپریم کورٹ میں خالی ہونے والی ججوں کی نشستوں پر اپنی مرضی کی تقرریاں کر سکیں گے، بلکہ سپریم کورٹ کو لبرل نظریات کے مزید حامی ججوں سے پر کر سکتے ہیں۔ کیونکہ قدامت پسند سوچ کے حامی دو مزید جج جسٹس کلیئرنس تھامس 72 سال اور جسٹس سیموئیل اے الیٹو جونئیر 70 برس کے ہیں اور ممکنہ طور پر ریٹائر ہونے کے نزدیک ہیں۔

امریکہ کی اعلی ترین عدالت میں نئی اور پرانی سوچ کے حامی کتنے جج ہونے چاہئیں، اس کے لئے تاریخی طور پر ریپبلکن ووٹر زیادہ متحرک رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے سال 2016ء کی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کو تعینات کریں گے، اور انہوں نے متوقع ججوں کی ایک ممکنہ فہرست بھی جاری کی تھی۔ ان کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی۔

لیکن اب آزادی پسند سوچ کےامریکی حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں نئے خیالات کے حامل ججوں کی تقرری کی اہمیت سمجھ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG