رسائی کے لنکس

logo-print

'قبول ہے' کی مسجد میں عکس بندی پر تنازع، گانے پر پابندی کا مطالبہ


لاہور کی مسجد وزیر خان میں دو فن کاروں پر فلمائی گئی ایک ویڈیو پاکستان میں سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کے شدید ردِ عمل کے بعد اداکاروں نے مسجد میں فلم بندی پر معافی مانگ لی ہے۔ البتہ پنجاب کے وزیر برائے مذہبی اُمور کہتے ہیں کہ گانے 'قبول ہے' پر پابندی لگنی چاہیے۔

اداکارہ صبا قمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ عکس بندی کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی وہ صرف 'قبول ہے' کا پوسٹر بنانے کے لیے محض ایک کلک تھا۔ جس کا مقصد نکاح کے بعد شادی شدہ جوڑے کی خوشی دکھانا تھا۔

ان کے بقول کسی کو تکلیف دینا یا ناراض کرنا یا کسی مقدس مقام کی بے حرمتی کرنا میرے لیے اتنا ہی ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے جتنا کسی بھی اچھے انسان کے لیے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے انجانے میں کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے تو ہم تہہِ دل سے آپ سے معافی مانگتے ہیں۔

صبا قمر نے ویڈیو کے سین سے متعلق لکھا کہ عکس بندی کے دوران مسجد کی انتظامیہ موجود تھی۔ وہ گواہ ہے کہ وہاں کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پوری ویڈیو 11 اگست کو سامنے آ رہی ہے۔ آپ لوگ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ویڈیو دیکھیں۔ ہم سب مسلمان ہیں، ہمارے دل میں بھی اپنے مذہب اسلام کے لیے اتنی ہی محبت اور احترام ہے جتنا آپ سب کے دل میں ہے۔

ادکارہ صبا قمر کے بعد سین میں ساتھ اداکاری کرنے والے بلال سعید نے بھی مسجد میں عکس بندی کے مناظر پر معافی مانگ لی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک پیغام میں بلال سعید نے کہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسجد کا تقدس پامال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انتظامیہ گواہ ہے کہ مسجد میں موسیقی نہیں بجائی گئی۔

ان کے بقول انہوں نے صبا قمر کے ہمراہ فوٹو شوٹ کیا تھا جسے ڈانس کہنا غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ نا دانستہ طور پر غلطی ہوئی۔ جس پر وہ توبہ کرتے ہیں اور لوگوں سے معافی مانگتے ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ پنجاب کا محکمۂ اوقاف و مذہبی امور صوبے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی حامل عمارتوں میں کمرشل اور ذاتی عکس بندی کی اجازت دیتا ہے۔

اِس سلسلے میں اجازت لینے والے شخص کو 30 ہزار روپے محکمے کے پاس بطور فیس جمع کرانے ہوتے ہیں۔ جس کے بعد مخصوص شرائط کے تحت وہاں فوٹو شوٹ یا عکس بندی کی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایسا ہی کچھ اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کی نئی آنے والی میوزک ویڈیو 'قبول ہے' کے ایک سین کے لیے کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش سین میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد میں نکاح ہوتا ہے جس کے بعد صبا قمر، بلال سعید کا ہاتھ تھامے نظر آتی ہیں۔

وائس آف امریکہ نے محکمۂ اوقاف و مذہبی امور سے اجازت نامے کے بارے میں پوچھا تو مینیجر اوقاف محمد اشتیاق نے اجازت نامہ جاری کرنے کی تصدیق کی۔

پنجاب کے وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور سید سعید الحسن کہتے ہیں کہ مساجد میں اس طرح کا شوٹ یا کسی بھی قسم کی عکس بندی قطعی طور پر غیر قانونی ہے۔ اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید سعید الحسن نے کہا کہ انہوں نے مسجد وزیر خان میں مبینہ طور پر گانے کی عکس بندی کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ مینیجر اوقاف کو فرائض سے غفلت برتنے پر معطل کیا جا چکا ہے۔

'قبول ہے' کے حوالے سے سید سعید الحسن کا کہنا تھا کہ اِس میوزک ویڈیو پر پابندی لگنی چاہیے۔ مسجد جیسی مقدس جگہ پر ایک رومانوی ویڈیو کی اجازت دینا بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

ان کے بقول اِن مناظر کو دیکھ کر میرے بھی جذبات اُسی طرح مجروح ہوئے ہیں جیسے عام مسلمان کے ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے میں علما اور عوام الناس کے ساتھ ہوں۔

دوسری جانب پاکستانی فلموں کے نامور ہدایت کار سید نور کہتے ہیں کہ وہ اِس بات سے لا علم ہیں کہ مسجد وزیر خان میں کسی میوزک ویڈیو کی عکس بندی ہوئی ہے یا نہیں لیکن اُن کی سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ اِس معاملے کو اتنا کیوں اُٹھایا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سید نور نے کہا کہ جب ویڈیو آئے گی تو اُس کو دیکھیں گے اور پھر ہی اس پر کوئی بات ہو سکتی ہے۔

سید نور نے کہا کہ بہت سے چیزیں حقیقت میں دیکھنے میں کچھ اور ہوتی ہے لیکن کسی ویڈیو میں وہ کچھ اور نظر آتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی کسی کی ویڈیو کو، یا کسی کے کام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ایشو بنا رہے ہیں۔ ہم اِس کلچر سے کیوں نہیں نکل رہے؟

معروف عالمِ دین اور جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم مولانا راغب نعیمی سمجھتے ہیں کہ محکمہ اوقاف کو اجازت دیتے ہوئے معاملے کی نگرانی کرنی چاہیے تھی۔ اِس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر یہ معاملہ مقدس مقامات کی حرمت کا ہے اور یہ قانون دان ہی بتائیں گے کہ اس میں جرم کی کیفیت کیا ہے۔ شرعی طور پر یہ سارا عمل گناہ کے زمرے میں آتا ہے اور اگر کسی شخص سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ اِس گناہ پر معافی مانگے تو اسے معاف کر دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستانی اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید نے گزشتہ ہفتے اپنی نئی آنے والی میوزک ویڈیو 'قبول ہے' کی شوٹنگ کی چند تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر کی تھیں جو لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں شوٹ کی گئی تھیں۔

عکس بندی کے مناظر سامنے آنے پر سوشل میڈیا کے کئی صارفین نے اس پر تنقید کی تھی اور اسے مسجد کی بے حرمتی قرار دیا تھا۔ البتہ کئی لوگ سوشل میڈیا پر ان فن کاروں کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے بھی مسجد وزیر خان میں مبینہ طور پر گانے کی عکس بندی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسجد وزیر خان میں گانے کی فلم بندی کے تمام ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جسارت نہ کر سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG