رسائی کے لنکس

logo-print

'سبیکا پاکستان اور امریکہ کو قریب لانا چاہتی تھیں،


سبیکا شیخ، فائل فوٹو

اس سال امریکی محکمہ خارجہ کے کینیڈی لوگر یوتھ ایکس چینج پروگرام کے اسکالر شپ کے تحت پاکستان سے 75 طلبا و طالبات امریکی ہائی اسکولوں میں ایک سال کی تعلیم حاصل کرنے آئے، جن کی میزبانی امریکی گھرانوں نے کی۔ یہ طلبا و طالبات اپنی زندگی کا ایک یادگار اور بہترین سال ہنسی خوشی امریکہ میں گزارنے کے بعد چند ہفتوںمیں وطن واپسی کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ انہیں اپنی زندگی کی ایک انتہائی غیر متوقع اور انتہائی افسوسناک صورتحال کا سامنا ہوا۔ ٹیکساس کے سانتا فی ہائی اسکول میں ان کی ایک بہت ہی ہونہار اور زندہ دل ساتھی سبیکا شیخ فائرنگ کے ایک دلخراش واقعے میں ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی۔

اس المناک واقعےنے امریکہ میں زیر تعلیم پاکستان سے آئے ہوئے طالب علموں کو ہلا کر رکھ دیا جو خود کو امریکہ میں یوتھ ایکس چینج فیملی کہتے ہیں ۔ اس فیملی کے تما م 75 ارکان اگرچہ ایک دوسرےسے دورامریکہ کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم تھے مگرفیس بک، ٹیلی فون اور میسیجنگ کے ذریعے لمحہ لمحہ ایک دوسرے کے مسائل سےباخبر اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک رہتے تھے۔ اس فیملی نےسبیکا کی خبر سن کراس کےغم کو برداشت کرنے کی کوشش کی۔

پروگرام' ہر دم رواں ہے زندگی 'نےجو گزشتہ چھ سال سے اپنے پروگرام میں امریکہ آنے والےپاکستانی ایکس چینج اسٹوڈنٹس کے انٹر ویوز نشر کرتا رہتا ہے، سبیکا کے سانحے کے فوراًٍ بعد اپنے پہلے پروگرام میں امریکہ بھر کی مختلف ریاستوں سے سبیکا کے کچھ دوستوں اور قریبی ساتھیوں کو مدعو کیا اور ان سے اپنی دوست اور فیلو سبیکا شیخ کےبارے میں ان کی یادیں اپنے سننے والوں تک پہنچائیں۔

ڈہرکی سندھ کی خدیجہ خان نے انڈیانا سے،کراچی کی نمرا فہیم نے الی نوائے سے،سوات کے محمداویس نے آئیوا سے، پشاور کے عماد احمد نصیر نے ورجینیا سے، اسلام آباد کے افراز احمدنے مشی گن سے ،راولپنڈی کے ولید جمال پراچہ نے واشنگٹن سے اور میری لینڈ میں زیر تعلیم اسلام آباد کی اسریٰ نسیم چیمہ نے خود اسٹوڈیو آکر پروگرام میں شرکت کی ۔جب کہ سبیکاکے ایک قریبی ایکس چینج فیلو ورن ارائیں خود تو پروگرام میں شریک نہ ہوسکے لیکن انہوں نے سبیکا کےبارے میں ایک ویڈیو کلپ ہمیں فراہم کیا جس میں وہ اپنے چند قریبی ایکس چینج ساتھیوں کے ساتھ بہت خوشگوار موڈ میں قہقے لگاتی دکھائی دے رہی تھیں۔

پروگرام کے تمام شرکا نے دکھ بھرے لفظوں میں سبیکا کو یاد کیا۔سبیکا کی قریبی دوست نمرہ نے بتایاکہ" فائرنگ کے دن جب میں اسکول جا رہی تھی توسبیکا نے مجھے میسج کیاکہ تم مجھے آج کل ویڈیو کال نہیں کرتیں۔ میں نے لکھا کہ میں اسکول جارہی ہوں گھر واپس جاتے ہی تمہیں ویڈیو کال کروں گی اور اس کے صرف آدھے گھنٹے بعد مجھے ایک لڑکی نے میسج کیا کہ سبیکا کی ڈیتھ ہو گئی ہے تومیں سمجھی کہ کوئی مذاق کر رہا ہے۔ پھر میں نے فیس بک پر رابطہ کیا تو وہاں سب ہی یہ خبر شیئر کر رہے تھے۔ نمرہ نے غم سے رندھی آواز میں کہا کہ سبیکامشہور ہونا چاہتی تھی۔وہ مشہور تو ہو گئی لیکن وہ زندہ تو نہیں رہی۔

سبیکا شیخ اپنے یوتھ ایکس چینج گروپ کے چند ساتھیوں کے ہمراہ
سبیکا شیخ اپنے یوتھ ایکس چینج گروپ کے چند ساتھیوں کے ہمراہ

محمد اویس نے بتایا کہ سبیکااور وہ کراچی سےواشنگٹن کی فلائٹ میں آنے والے گروپ میں شامل تھے۔ انہوں نے یہ سفر اکٹھے کیا تھا اور وہ سب یہاں اکٹھے گھومے بھی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سبیکا بہت خوش تھیں وہ کہتی تھیں کہ یہ سال ان سب کی زندگی کا اہم ترین سا ل ہے یہ چلا گیا تو واپس نہیں آئے گا اس لیے اس میں خوش رہیں ۔ وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ ہم سب کو اس سال پاکستان کے تاثر کو بہتر بنانے کا ایک نادر موقع ملا ہے جو ہر ایک کو نہیں ملتا اس لیے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور وہ اس حوالے سے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں۔

اویس نے بتایا کہ سانحےسے ایک ہفتہ قبل سبیکا نے ان سےرابطہ کیا اورخوشی سے بتایا کہ انہیں آنر رول ملا ہے اور یہ بھی کہ وہ پرام میں شریک ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔

ا فراز نے کہا کہ سبیکا کو شاعری کا بہت شوق تھا اور وہ دونوں اکثر ایک دوسرے کو اشعار سناتےتھے۔

عماد نصیر نے کہا کہ سبیکااور وہدونوں ایک دوسرےکو روزانہ ہی میسیج کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سبیکا کبھی کسی کو ناراض یا دکھی دیکھتی تھی تو اسے خوش کرنے کی کوشش کرتی تھیں ۔ انہیں بریانی بہت پسند تھی اور ٹی وی شوز میں شرلک ہومز ۔ ایک بارمیں اسکول میں تھا تو سبیکا نے میسج پر لکھا کہ کیا تم نے شرلک ہومز دیکھا ہے جب میں نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا تو انہوں نے کہا کہ اگر تم نے شرلک ہومز نہیں دیکھا تو پھر میرے دوست کیسے ہو سکتے ہو ابھی اسکول سے گھر جاؤ اور شرلک ہومز دیکھو ۔ عماد نے کہا کہ میں اب کوشش کروں گا کہ شرلک ہومز دیکھوں اور سبیکا کی یاد تازہ کروں۔

ولید جمال پراچہ نے کہا کہ سبیکا سے ان کی ملاقات تعارفی سیشن میں ہوئی تھی ۔میں ذرا الگ سا بیٹھا تھا۔ وہ خود میرے پاس آئیں اور کہا کہ آپ سوشل نہیں ہیں تو سوشل ہو جائیں۔ شرارت کا عنصر ان کے کردار میں بہت نمایاں تھا۔

اسری نسیم چیمہ نے جو سبیکا کی پانچ دن روم میٹ رہی تھیں بتایا کہ سبیکاچاہتی تھیں کہ پاکستان اور امریکہ قریب آجائیں، وہ ہم میں نہیں رہیں ،لیکن اب یوتھ ایکس چینج فیملی کا کا م ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہتی تھیں اسےآگےبڑھائیں اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوریاں کم کرنے کی کوشش کریں۔

اسری نے مزید کہا کہ سبیکا کے واقعےکے بعداب دماغ میں ڈر بیٹھ گیا ہے اور اب میں جب اسکول جاتی ہوں تو کلاس میں داخل ہوتے ہی میں سب سےپہلے یہ دیکھتی ہوں کہ یہاں سےباہر جانے کا راستہ کونسا ہے۔

پروگرام میں شامل سبیکا کے سبھی دوستوں اور فیلوزکا خیال تھا کہ سبیکا کے ساتھ جو سانحہ پیش آیا وہ نہ پیش آتا تو بہتاچھا ہوتا لیکن ایسا ہو گیاتو سانحہ یا حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے لیکن سبیکا کے واقعے کی بنیاد پر پاکستانی گھرانوں کو اپنے بچوں کو ایکس چینج پروگراموں میں شرکت سے نہیں روک دینا چاہیے کیو ں کہ ایکس چینج پروگرام زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ ان سب کاکہنا تھا کہ سبیکا کے سانحے نے انہیں سال کے آخر میں ایک تکلیف دہ تجربےسے دوچار کیا لیکن باقی سبھی مہینوں میں انہیں یہاں امریکہ میں بہت سے خوشگوار اور زندگی بدلنے والے تجربات بھی ملے جو آئندہ زندگی میں ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG