رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیکساس اسکول شوٹنگ میں ایک پاکستانی طالبہ سمیت 10 افراد ہلاک


امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک سکول میں ایک طالب علم کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک پاکستانی طالبہ بھی شامل ہے۔

سبیکا شیخ ، سانٹا فی ٹیکساس کے سکول میں یس ایکسچ چینج پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ اس پروگرام کے ذریعے امریکہ بھر کے تعلیمی اداروں میں ہر سال تقریباً ایک سو پاکستانی طالب علموں کو پڑھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک ڈائریکٹر دانیال گیلانی نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس خبر کے ساتھ سبیکا شیخ کی تصویر اور یس ایکس چینج پروگرام کی منیجر میگن لیساگٹ کا پیغام بھی شائع کیا ہے جو انہوں نے امریکہ میں زیر تعلیم یس ایکس چینج پروگرام کے دیگر طالب علموں کو بھیجا ہے۔ تاہم بعد میں انہوں نے یہ ٹویٹ اپنے اکاؤنٹ سے ہٹا دی، لیکن یہ خبر واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

پیغام میں دل کی گہرائیوں سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سانٹا فی ٹیکساس کے سکول میں شوٹنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں سبیکا شیخ بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ یس پروگرام کے لیےا یک بڑا سانحہ ہے۔ ہم سبیکہ اور اس کے خاندان کو اپنی دعاؤں اور سوچوں میں یاد رکھیں گے۔

جب وائس آف امریکہ نے اس پیغام کی تصدیق کے لیے میگن لیساگٹ کے دفتر ٹیلی فون کیا تو وہاں سے بتایا گیا کہ یہ تصدیق محکمہ خارجہ ہی سے کی جا سکتی ہے۔ محکمہ خارجہ سے تاحال ہمیں جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنے ایک بیان میں جمعے کی صبح ٹیکساس کے سانٹا فی ہائی سکول میں شوٹنگ کا نشانہ بننے والوں کے لیے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے جن میں یوتھ ایکس چینج اینڈ اسٹدی پروگرام کے لیے آنے والی ایک پاکستانی طالبہ بھی شامل تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سبیکا کے خاندان اور دوستوں کے غم میں شریک ہیں اور ان کے لیے دعاگو ہیں۔ سفیر عزیز چوہدری نے سبیکا کے والد سے بات کی اور ان کی بیٹی کی المناک موت پر دل کی گہرائیوں سے تعزیت کی۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ہائی سکول سانٹا فی میں ایک 17 سالہ طالب علم نے جمعے کے روز مبینہ طور پر فائرنگ کر کے 10 کو ہلاک اور 10 کو زخمی کر دیا۔

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا ہے کہ پولیس کو مبینہ حملہ آور کے گھر اور سکول کے ان حصوں سے جہاں فائرنگ کی گئی، بارودی مواد اور ایک گاڑی ملی ہے۔

شوٹنگ کے بعد پولیس کی گاڑیاں موقع ہر پہنچ گئیں۔
شوٹنگ کے بعد پولیس کی گاڑیاں موقع ہر پہنچ گئیں۔

قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے الزام میں ڈیمیریوس پاگورٹزس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو سکول میں گیارہویں جماعت کا طالب علم ہے۔

گورنر نے بتایا کہ مشتبہ نوجوان فائرنگ کے بعد خودکشی کرنا چاہتا تھا، لیکن اس نے گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا کہ وہ خود کو گولی مارنے کا حوصلہ نہیں کر سکا۔

گورنر ایبٹ نے بتایا کہ حملے میں دو ہتھیار استعمال ہوئے جن میں ایک شاٹ گن اور دوسرا ایک ریوالور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ہتھیار قانونی ہیں اور حملہ آور کے والد کی ملکیت ہیں ۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے والد کو یہ پتا تھا کہ بیٹا اس کا اسلحہ لے گیا ہے۔

شوٹنگ کے الزام میں گرفتار کیا جانے والا طالب علم
شوٹنگ کے الزام میں گرفتار کیا جانے والا طالب علم

اس سے قبل خبروں میں بتایا گیا تھا کہ قریب واقع ہیرس کاؤنٹی کے پولیس سربراہ، ایڈ گونزالیز ز نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 کے لگ بھگ ہو سکتی ہے جن میں زیادہ تر طالب علم شامل ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’مشتبہ شخص زیر حراست ہے، جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ طالب علم ہے‘‘۔

ایک بیان میں ’سانتا فی انڈپنڈنٹ اسکول ڈسٹرکٹ (آئی ایس ڈی)‘ نے بتایا ہے کہ لوگ زخمی ہوئے ہیں، لیکن تعداد نہیں بتائی۔

گونزلیز نے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں ایک پولیس اہل کار بھی شامل ہے، جب کہ ’’اُن کے زخموں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا‘‘۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شوٹنگ کے واقعے کو ’’انتہائی خوفناک حملہ‘‘ قرار دیا ہے، جو اُن متعدد حملوں میں سے ایک ہے جو ’’اس ملک میں ایک طویل عرصے سے ہوتے رہے ہیں‘‘۔

ٹرمپ نے متاثرہ اہل خانہ سے کہا کہ ’’اس افسوسناک لمحے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے‘‘۔

اُنھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے افراد سے اسلحہ چھینا جائے گا جو اپنے اور دوسروں کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں‘‘۔

سانتا فی جنوب مشرقی ریاست ٹیکساس میں ہوسٹن اور گالوسٹن کے شہروں کے وسط فاصلے پر واقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG